بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

یوٹیوب چینل کی کمائی کاحکم


سوال

یوٹیوب ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں مختلف لوگ اپنی وڈیوز وغیرہ پوسٹ کرتے  ہیں اور اس سے پیسے کماتے ہیں۔ طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی شخص ان کی ویڈیو دیکھتا ہے  تو اس سے پہلے اس کو ایک ایڈ دیکھنا پڑتا ہے۔ اور یوٹیوب وہ ایڈ دکھا کر اس ایڈ والی کمپنی سے جو پیسے لیتا ہے اسکا کچھ حصہ اس ویڈیو بنانے والے شخص کو ملتا ہے۔ تو اگر کوئی شخص ایسی ویڈیو ڈالے جس میں کوئی  نامحرم اور کوئی فحاشی وغیرہ نہ  ہو صرف ہنسی و مزاح ہو۔ تو کیا اس ویڈیو کی کمائی  جائز ہے؟  

جواب

یوٹیوب پر چینل بناکر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے کی صورت میں اگر اس چینل کے فالوورز  زیادہ ہوں تو یوٹیوب چینل ہولڈر کی اجازت سے اس میں اپنے مختلف کسٹمر کے اشتہار چلاتا ہے   ، اور اس کی ایڈورٹائزمنٹ اور مارکیٹنگ کرنے پر ویڈو اَپ لوڈ کرنے والے کو بھی پیسے دیتا ہے ۔ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر چینل پر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والا:

1۔  جان د ار  کی تصویر والی ویڈیو اپ لوڈ کرے، یا  اس ویڈیو  میں  جان دار کی تصویر ہو۔

2۔ یا اس ویڈیو میں میوزک  اور موسیقی ہو۔

3۔ یا اشتہار  غیر شرعی ہو  ۔

4۔  یا  کسی بھی غیر شرعی شے کا اشتہار ہو۔

5۔ یا اس کے لیے کوئی غیر شرعی معاہدہ کرنا پڑتا ہو۔

تو اس کے ذریعے پیسے کمانا جائز نہیں ہے،عام طور پر اگر ویڈیو میں مذکورہ خرابیاں  نہ بھی ہوں تب بھی یوٹیوب کی طرف سے لگائے   جانے والے  اشتہار میں یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں، اور ہماری معلومات کے مطابق یوٹیوب  پر چینل بنانے کے بعد مخصوص مدت کے اندر چینل کے سبسکرائبرز اور ویورز مخصوص تعداد تک پہنچ جائیں تو یوٹیوب انتظامیہ اس چینل پر اپنی مرضی سے اشتہار چلاتی ہے، اور چینل بنانے والا ابتدا میں ہی اس معاہدے سے اتفاق کرلیتا ہے ، لہٰذا  اس کے بعد وہ مختلف ملکوں، جگہوں اور  یوزرز کی سرچنگ بیس کے حساب سے مختلف ایڈ چلاتے ہیں، مثلاً اگر  پاکستان میں اسی ویڈیو پر وہ کوئی اشتہار چلاتے ہیں، مغربی ممالک میں اس پر وہ کسی اور قسم کا اشتہار چلاتے ہیں، اسی طرح پاکستان میں ہی ایک شخص کی ڈیوائس پر کسی حلال چیز کا یا جائز اشتہار ہے تو دوسرے شخص کی سرچ کی بنیاد پر، اسی چینل پر ناجائز چیز کا اشتہار دیتے ہیں،   ان تمام مفاسد کے پیشِ نظر یوٹیوب پر  چینل بنانا اور اس پر ویڈیو اپ لوڈ کرکے  پیسے  کمانا  شرعاً  جائز نہیں ہے۔

نیز یوٹیوب پر چینل کے ذریعے آمدن کے حصول کے لیے جو معاہدہ ہوتاہے، اس میں جاندار کی تصاویر کے علاوہ یہ شرعی خرابی بھی پائی جاتی ہے کہ اس میں اجرت مجہول ہوتی   ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص یوٹیوب انتظامیہ کو فیس دے کر اپنے چینل پر اشتہارات بند کروائے تو بھی  اجرت کی جہالت کی وجہ سے یہ معاہدہ جائز نہیں ہوگا۔

 فتاوی شامی میں ہے:

"قال ابن مسعود: صوت اللهو و الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: و في البزازية: إستماع صوت الملاهي كضرب قصب و نحوه حرام ؛لقوله عليه الصلاة و السلام: استماع الملاهي معصية، و الجلوس عليها فسق، و التلذذ بها كفر؛ أي بالنعمة".

( الدرالمختار، کتاب الحظر والاباحة،ج:٦،ص: ٣٤٨ - ٣٤٩، ط: سعيد)

ترمذی شریف میں ہے:

"عن أبي أمامة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن، ولا خير في ‌تجارة فيهن وثمنهن حرام، وفي مثل ذلك أنزلت عليه هذه الآية {ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله} إلى آخر الآية".

(ابواب التفسير،باب ومن سورة لقمان، ج:5،ص: 198،ط:دارالغرب الاسلامي -  بيروت)

جامع العلوم والحکم میں ہے:

"فالحاصل من هذه الأحاديث كلها ان ما حرم الله الإنتفاء به فإنه يحرم بيعه وأكل ثمنه كما جاء مصرحا به في الرواية الـمـتـقـدمـة ان الله إذا حرم شيئا حرم ثمنه وهذه كلمة عامة جامعة تطرد في كل ما كان المقصود من الإنتفاع به حرام، وهو قسمان: احدهما ما كان الإنتفاع به حاصلا مع بقاء عينه كالأصنام . ...... ويلتحق بذالك ما كانت منتفعة محرمة ككتب الشرك والسحر والبدع والضلال وكذالك الصور المحرمة وآلات الملاهي كالطنبور وكذالك شهداء الجواري للغناء".

(جامع العلوم والحكم لابن رجب، ج:3،ص: 1211-1212، ط :دالسلام للطبا عة والنشروالتوزيع -  بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ".

 ( كتاب الصلاة، مطلب مكروهات الصلاة، ج:1،ص:64، ط: سعيد)

فقہ السیرة میں ہے:

 "و الحق أنه لاينبغي تكلف أي فرق بين أنواع التصوير المختلفة ... نظراً لإطلاق الحديث".

( العبرولعظات ،السادس ،تاملات فيما عند الكعبة المشرفة،ص: 281،ط:دارالفكر) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101965

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں