بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

یوٹیوب کے ذریعہ پیسے کمانا


سوال

یوٹیوب سے کمائی کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جیسے فوٹوولوگنگ وغیرہ جن میں اکثر لوگوں کی تصاویر بھی آجاتی ہیں کبھی وڈیو بھی لیکن کہا جاتا ہے کہ کمائی اشتہارات سے ہوتی ہے جو کے ہماری وڈیو کے دوران یوٹیوب والے چلاتے ہیں لیکن ان اشتہارات میں بھی تصاویر آجاتی ہیں ۔ کیا ہم کمائی میں سے ان تصاویر کے بقدر صدقہ کردیں تو باقی کمائی جائز ہو جائے گی؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں 

جواب

یوٹیوب سے پیسے کمانے میں شرعًا بہت سے مفاسد ہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ :یوٹیوب پر چینل بناکر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے کی صورت میں اگر اس چینل کے فالوورز  زیادہ ہوں تو یوٹیوب چینل ہولڈر کی اجازت سے اس میں اپنے مختلف کسٹمر کے اشتہار چلاتا ہے، اور اس کی ایڈورٹائزمنٹ اور مارکیٹنگ کرنے پر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والے کو بھی پیسے دیتا ہے۔ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر چینل پر ویڈیو اپ لوڈ کرنے والا:

۱۔ویڈیو میں کسی جان دار کی  تصویر اپ لوڈ کرے۔

۲۔ویڈیو میں کسی غیر شرعی اور ناجائز امر کی ترویج    کی گئی ہو۔

۳۔ویڈیو میں موسیقی  ہو۔

۴۔پیسوں کی وصولی یا ادائیگی  کرنے میں  کوئی سودی معاملہ  یا فاسد عقد کرنا پڑتا ہو۔

۵۔جان دار کی تصاویر والے یا کسی طور پر بھی غیر شرعی اشتہارات اس چینل پر  چلتے ہوں۔

تو اس کے ذریعہ پیسے کمانا جائز نہیں ہے۔

اور  اگر ویڈیو میں مذکورہ خرابیاں  نہ بھی ہوں تب بھی یوٹیوب کی طرف سے لگائے جانے والے  اشتہار میں یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں، اور ہماری معلومات کے مطابق یوٹیوب پر چینل بناتے وقت یہ معاہدہ کیا جاتا ہےکہ جب چینل کے سبسکرائبرز اور ویورز مخصوص تعداد تک پہنچ جائیں گے تو یوٹیوب انتظامیہ اس چینل پر مختلف لوگوں کے اشتہارات چلانے کی مجاز ہوگی اور چینل  بنانے والا اس معاہدے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوتاہے، الا یہ کہ اشتہارات بند کرنے کے لیے وہ باقاعدہ فیس ادا کرے اور چینل کو کمرشل بنیاد پر استعمال نہ کرےاور یوٹیوب انتظامیہ    یوزر کی سرچنگ بیس یا لوکیشن یا مختلف لوگوں کے اعتبار سے یا مختلف ملکوں کے اعتبار سے مختلف ایڈ چلاتے ہیں، مثلاً اگر  پاکستان میں اسی ویڈیو پر وہ کوئی اشتہار چلاتے ہیں، مغربی ممالک میں اس پر وہ کسی اور قسم کا اشتہار چلاتے ہیں اسی طرح ایک شخص کی ڈیوائس پر الگ اشتہار چلتا ہے تو دوسرے شخص کی ڈوائس پر دوسرا اشتہار چلتا ہے ، جس  میں بسااوقات حرام اور ناجائز چیزوں کی تشہیر بھی کرتے ہیں، ان تمام مفاسد کے پیشِ نظر یوٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کرکے پیسے کمانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔

اس کے علاوہ یوٹیوب چینل کے ذریعہ پیسے کمانے کے سلسلے میں انتظامیہ سے اجارے کا جو معاہدہ کیا جاتا ہے وہ بھی شرعی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے ۔

یوٹیوب پر  چینل بنانے کے بعد ویڈیو ز اپ لوڈ کرکے پیسے کمانے کی مختلف صورتیں ہیں :

ایک صورت تو یہ ہے کہ یوٹیوب پر جب کوئی چینل کھولتا ہے اور اس پر مواد ڈالتا ہے تو چینل کھولنے والا گوگل کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ گوگل مختلف قسم کے  ایڈز اس کے چینل  پر چلائے، گوگل ان ایڈز سے جو کماتا ہے  45  فیصد خود رکھتا ہے اور  55  فیصد یوٹیوب چینل والے کو دیتا ہے۔گوگل   اشتہارات دینے والوں  سے لوگوں کے ہر کلک کے حساب سے رقم وصول کرتا ہے۔اور یہ صورت شرعا اجارہ کی ہے جو یوٹیوب چینل کے مالک اور گوگل کےدرمیان ہوتا ہے گوگل چینل کے مالک کو چینل کے استعمال پر ایڈ نشر کرنے کی صورت میں اجرت دیتا ہے اوریہ صورت   مندرجہ ذیل خرابیوں کی وجہ سے حلال نہیں ہے:

پہلی خرابی تو یہ ہے کہ گوگل کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی قسم كا بھی ایڈ چلائے، ان میں جائز ،ناجائز ہرقسم کی چیزوں کی تشہیر کی جاتی ہے ،نیز  اکثر ایڈ  ذی روح کی تصاویر پر مبنی ہوتے ہیں اور یوٹیوب چینل کے مالک کو انہیں ایڈز کی اجرت ملتی ہےلہذا یہ اجرت کا معاہدہ گناہ میں تعاون کرنے کی وجہ سے  جائز نہیں ہے اور کمائی بھی حلال نہیں ہے۔

دوسری خرابی یہ ہے کہ اس معاملہ میں اجرت مجہول ہوتی ہے کیوں کہ  گوگل ایک متعین اجرت نہیں طے کرتا،  بلکہ اپنی کمائی کا  55 فیصد اجرت طے کرتا ہے اور گوگل کی کل اجرت مجہول ہوتی ہے تو  اس کا  55فیصد بھی مجہول ہوتا ہے۔ چینل کے استعمال کی اجرت کا تعلق وقت کے ساتھ ہونا چاہیے یعنی جتنی دیر اس پر ایڈ چلے اس حساب سے اجرت ملے لہذا اگر چینل پر چلنے والے ایڈز اگر سب کے سب  شرعی دائرہ کے اندر بھی ہوں تب بھی یہ معاملہ شرعًا اجارہ فاسد ہوگا اور اجرت حلال نہیں ہوگی۔

دوسری صورت یہ ہے کہ  یوٹیوب کے جو  پریمیم کسٹمرز ہیں  یوٹیوب ان سے بعض سہولیات (جو ویڈیوز دیکھنے اور ڈاون لوڈ کرنے سے متعلق ہوتی ہیں)کے بدلہ  سبسکرپشن فیس لیتا ہے اور جب وہ لوگ کسی چینل کو دیکھتے ہیں تو  یوٹیوب اس چینل والے کو اس سبسکرپشن فیس میں سے کچھ دیتا ہے۔اب یہ رقم جو چینل کے مالک کو ملتی ہے یہ چینل استعمال کرنے کی اجرت ہے اور یہ مندرجہ ذیل  خرابیوں کی وجہ سے شرعا جائز نہیں ہے:

چینل پر موجود ویڈیوز اگر  جاندار  کی تصاویر پر مشتمل ہیں تو یہ  گناہ کے کام پر اجرت لینے   کی وجہ سے حرام ہوگی۔ اگر ویڈیو شرعی دائرہ کے مطابق ہو تب بھی اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہوگی؛ کیوں کہ چینل کے استعمال کی اجرت وقت کے ساتھ متعین ہونی چاہیے کہ اتنے وقت کی اتنی اجرت ہے یا پھر مکمل مہینہ یا سال کی اتنی اجرت ہے جب کہ مذکورہ صورت میں ہماری معلومات کے مطابق اس طرح چینل والے کی اجرت متعین نہیں ہوتی۔لہذا بہر صورت یوٹیوب پر چینل بنانا اور اس کے ذریعہ پیسے کمانا جائز نہیں ہے۔لہذا یوٹیوب کے ذریعہ کمائی آمدنی کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کردے۔

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى وتعاونوا على البر والتقوى يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."

(المائدۃ :۲ جلد ۳ ص : ۲۹۶ ط : دار احیاء التراث العربي ۔ بیروت)

فتاوی عالمگیری  میں ہے:

"ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء  حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعاومنها أن تكون المنفعة مقصودة معتادا استيفاؤها بعقد الإجارة ولا يجري بها التعامل بين الناس فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها."

کتاب الاجارۃ ، الباب الاول فی تفسیر الاجارۃ و رکنها و الفاظها و شرائطها جلد ۴ص : ۴۱۱ط : دارالفکر)

در المختار میں ہےـ:

"قال ابن مسعود صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله - عليه الصلاة والسلام - «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة."

(کتاب الحظر و الاباحة جلد ۶ ص : ۳۴۸  ، ۳۴۹ ط : دارالفکر)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101577

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں