بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

یوٹیوب پر علماء کے بیانات کے ساتھ نامحرم کی تصاویر کا آنا، یوٹیوب چینل سے کمانا


سوال

عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا کا بڑاعروج ہے، جس میں اکثر عوام الناس اپنے اوقات صرف کر رہے ہیں جن علماء کے یوٹیوب چینل ہیں، وہ ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں، اس میں یوٹیو ب کی طرف سے ایڈ دیا جاتا ہے وہ ایڈ ان کی مرضی سے دیا جاتا ہے، وہ کسی چیز کی شہرت کا بھی ہو سکتا ہے ،کبھی نامحرم کی تصویر بھی اس میں ہو تی ہےچاہے وہ کسی حالت میں ہو۔

آج کل کے دور  میں فتنے ہر طرف سے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں خصوصاً نیٹ یوٹیوب کے ذریعے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں غلط باتیں من گھڑت واقعات کےذریعے اور علماء دیوبند کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں، احناف پر رد کرتے ہیں اور بھی بہت سے فتنےہیں، علماء کرام ان باتوں کے جوابات نیٹ پر دیتے ہیں یقیناً علماء کے اس عمل سے بعض لوگوں کو فائدہ  بھی ہوتا ہے۔ 

دریافت یہ کرنا ہےکہ :

1) علماء کرام کے بیانات کے ساتھ نامحرم کی تصویر آجاتی ہے اگر چہ وہ غیر اختیاری ہے دوسری طرف وعظ و نصیحت ہوتا ہے یہ کیسے جائز ہے؟

2) بیانات کے چینل کے ذریعہ پیسے کمانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جاندار کی تصویر خواہ کیمرے سے لی گئی ہو یا ہاتھ سے بنائی گئی ہو، کاغذ یا کسی اور چیز پر ہو یا ڈیجیٹل ہو بہر حال تصویر ہے اور  حرام ہے ، تصویر کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

1) یوٹیوب پر کسی عالم کا بیان اگر ان کی اپنی یاکسی بھی جاندار کی تصویر کے ساتھ ہے تو خود یہ عمل حرام ہے، خواہ اس پر کوئی اشتہار آئے یا نہ آئے  اور اگر نامحرم کی تصویر یا موسیقی  پر مشتمل اشتہار بھی  آئے تو اس عمل کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے۔

2) یوٹیوب چینل پر بیانات اپ لوڈ کر کے پیسے کمانے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ یوٹیوب انتظامیہ چینل والے کی رضامندی سے اس کی اپ لوڈ کی گئی  ویڈیوز پر اشتہارات لگاتی ہےاور ان اشتہارت کی آمدنی کاکچھ حصہ چینل بنانے والے کو دیا جاتا ہے، اگر ویڈیو اپ لوڈ کرنے والاایسی ویڈیو اپ لوڈ کرے جس میں کوئی غیر شرعی امر( جاندار کی تصویر، موسیقی، کسی ناجائز چیز کی ترویج وغیرہ) نہ ہو تب بھی یوٹیوب کی طرف سے دیے جانے والے اشتہارات میں قطعاً اس چیز کا التزام نہیں کیا جاتا ، بلکہ ان اشتہارات میں  جاندار بالخصوص نامحرم کی تصویر، موسیقی، غیر شرعی اشیاء کی ترویج کو روکنا عموما ممکن بھی نہیں ہوتا اور یہی اشتہارات در اصل کمائی کا ذریعہ ہیں، اور ذرائع سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ مختلف ممالک میں ایک ہی ویڈیو پر الگ الگ اشتہارات لگائے جاتے ہیں اورغیر مسلم ممالک میں غیر شرعی اشتہارات کا ہونا غالب ہے، لہذا چینل پر صرف بیانات کی ویڈیوز ہی کیوں نہ ہو اس سے پیسے کمانا جائز نہیں ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن ‌مسلم قال: «كنا مع مسروق في دار يسار بن نمير فرأى في صفته تماثيل، فقال: سمعت عبد الله قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة ‌المصورون".

ترجمہ:  مسلم بن صبیحہ نے بیان کیا کہ  ہم مسروق بن اجدع کے ساتھ یسار بن نمیر کے گھر میں تھے۔ مسروق نے ان کے گھر کے سائبان میں تصویریں دیکھیں تو کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  سے سنا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا   اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہوگا۔

 (‌‌‌‌كتاب اللباس، باب عذاب المصورين يوم القيامة7/ 167 ، ط:المطبعة الكبرى الأميرية)

وفيه أيضاً:

"عن ‌عائشة رضي الله عنها: «أنها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فقام النبي صلى الله عليه وسلم بالباب، فلم يدخل، فقلت: أتوب إلى الله مما أذنبت؟ قال: ما هذه النمرقة؟ قلت: لتجلس عليها وتوسدها، قال: إن ‌أصحاب ‌هذه ‌الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم، وإن الملائكة لا تدخل بيتا فيه الصورة".

ترجمہ: "عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ  انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  (اسے دیکھ کر)  دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر تشریف نہیں لائے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے جو غلطی کی ہے اس سے میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ یہ گدا کس لیے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورت کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ اور فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویر ہو۔"

(‌‌باب من كره القعود على الصورة7/ 168 ، أيضاً)

صحیح مسلم میں ہے:

"قال: جاء رجل إلى ابن عباس. فقال:إني رجلأصور هذه الصور. فأفتني فيها. فقال له: ادن مني. فدنا منه. ثم قال: ادن مني. فدنا حتى وضع يده على رأسه. قال: أنبئك بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم. سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول (‌كل ‌مصور في النار. يجعل له، بكل صورة صورها، نفسا فتعذبه في جهنم).وقال: إن كنت لابد فاعلا، فاصنع الشجر وما لا نفس له".

ترجمہ:" ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا میں مصور ہوں اور تصویریں بناتا ہوں آپ اس بارے میں مجھے فتوی دیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آدمی سے فرمایا میرے قریب ہوجا وہ آپ کے قریب ہوگیا یہاں تک کہ حضرت ابن عباس نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر فرمایا میں تجھ سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر ایک تصویر بنانے والا دوزخ میں جائے گا اور ہر ایک تصویر کے بدلہ میں ایک جاندار آدمی بنایا جائے گا جو اسے جہنم میں عذاب دے گا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر تجھے اس طرح کرنے پر مجبوری ہے (تو بیجان چیزوں) درخت وغیرہ کی تصویریں بنا۔"

(كتاب اللباس والزينة، باب تحريم تصوير صورة الحيوان، 3/ 1670 ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144307100887

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں