بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

جو شخص صبح کو سورۂ حشر کی آخری تین آیات تعوذ کے ساتھ تلاوت کرے اس کےلیے ستر ہزار فرشتے شام تک دعا کرتے ہیں تو اگر کوئی اس کےساتھ تسمیہ کا اضافہ کرے تو اسے بھی یہ فضیلت حاصل ہوگی


سوال

حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص صبح کو سورۂ حشر کی آخری تین آیات اعوذباللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم کے ساتھ تلاوت کرے، اس کےلیے ستر ہزار فرشتے شام تک دعا کرتے ہیں۔

تو اگر کوئی اس کےساتھ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" بھی پڑھے تو کیا یہ فضیلت حاصل نہیں ہوتی ہے؟

جواب

مذکورہ حدیث ، سنن الترمذی، سنن الدارمی، مسند احمد، المعجم الکبیر اور شعب الایمان میں مذکور ہے۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن معقل بن يسار، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " من قال حين يصبح ثلاث مرات: أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم وقرأ ثلاث آيات من آخر سورة الحشر، وكل الله به سبعين ألف ملك يصلون عليه حتى يمسي، وإن مات في ذلك اليوم مات شهيدا، ومن قالها حين يمسي كان بتلك المنزلة."

(سنن الترمذي، أبواب فضائل القرآن، ج: 5، ص: 182، رقم: 2922، ط: مصطفى البابي الحلبي مصر)

مذکورہ حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صرف اسی سند سے منقول ہے۔اس حدیث کی سند میں موجود راوی خالد بن طہمان کو امام ابن معین رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔جبکہ امام ذہبی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں  کہ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن نہیں قرار دیا، اور یہ حدیث غایت درجہ غریب ہے۔

"وضعفه ابن معين، وقال: خلط قبل موته بعشر سنين، وكان قبل ذلك ثقة."... لم يحسنه الترمذي، وهو حديث غريب جدا، ونافع ثقة."

(ميزان الإعتدال، ج: 1، ص: 632، ط: دار المعرفة)

مذکورہ حدیث دیگر کتب میں بھی اسی سند سے منقول ہے، لیکن ان سندوں میں راوی "خالد بن طہمان" کی موجودگی کی بنا پر  سب سندیں  ضعیف ہیں۔البتہ چونکہ یہ حدیث ، فضائل کے متعلق  وارد ہوئی ہے،  لہذا اس کو قبول کیا جاسکتا ہے، اور یہ قابل عمل ہے۔

باقی چونکہ حدیث مبارکہ میں یہ ورد صرف تعوذ کے ساتھ ہی منقول ہے، تو اسے اسی طرح پڑھا جائے، اس میں  کسی قسم کا اضافہ نہ کیا جائے۔اور پھر تلاوت کلام پاک کے آداب میں سے بھی ہےکہ اگر تلاوت کی ابتداء درمیان سورت سے ہو رہی ہو، تو تعوذ پڑھنے کے بعد تلاوت کو شروع کیا جائے گا، تسمیہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ہاں اگر کسی شخص نے ساتھ میں تسمیہ بھی پڑھ لی، تو اسے اس ورد کی فضیلت حاصل ہوجائے گی، اور اسے تسمیہ پڑھنے کا اجروثواب  حاصل ہوگا۔

چناچہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

"ولو قطع القراءة وعاد عن قرب فمقتضى استحباب التعوذ...ويسن التعوذ قبل القراءة ...وإذا قطع القراءة إعراضا أو بكلام أجنبي - ولو رد السلام استأنفها."

(الإتقان في علوم القرآن، النوع الخامس والثلاثون: في آداب تلاوته وتاليه، ج: 1، ص: 359، ط: الهيئة المصرية العامة للكتاب)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503101788

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں