بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

یہ فرشتوں کو بھی چکر دے دیں گی کہنے سے کفر کا حکم


سوال

 میرے شوہر نے اپنے ہسپتال کے مریض کی چالاکی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ مریض اتنے تیز ہوتے ہیں کہ یہ فرشتوں کو بھی چکر دے دیں گے۔ میرا دل اس بات پر ڈر گیا کہ کہیں یہ کفریہ کلمہ نہ ہو میں بہت عام سی ، بس فرائض کی پابندی کی کوشش کرنے والی انسان ہوں مگر مجھے خوف آتا ہے کسی ایسی بات سے جو ایمان کے لیے اچھی نہ ہو اور جس سے نکاح پر اثر نہ پڑے تبھی میں گھبرا جاتی ہوں۔ آپ کو دوسری بار تنگ کرنے کی بھی یہی وجہ ہے۔ براہ مہربانی اس کا جواب دے دیجیے گا !

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کفریہ نہیں ہیں، البتہ ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله قال في البحر إلخ) سبب ذلك ما ذكره قبله بقوله وفي جامع الفصولين، روى الطحاوي عن أصحابنا لا يخرج الرجل من الإيمان إلا جحود ما أدخله فيه ثم ما تيقن أنه ردة يحكم بها وما يشك أنه ردة لا يحكم بها إذ الإسلام الثابت لا يزول بالشك مع أن الإسلام يعلو وينبغي للعالم إذا رفع إليه هذا أن لا يبادر بتكفير أهل الإسلام مع أنه يقضي بصحة إسلام المكره. أقول: قدمت هذا ليصير ميزانا فيما نقلته في هذا الفصل من المسائل، فإنه قد ذكر في بعضها إنه كفر مع أنه لا يكفر على قياس هذه المقدمة فليتأمل اهـ ما في جامع الفصولين وفي الفتاوى الصغرى: الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا يكفر اهـ وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل ح وفي التتارخانية: لا يكفر بالمحتمل، لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية اهـ والذي تحرر أنه لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير فيها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها اهـ كلام البحر باختصار."

(کتاب الجهاد , باب المرتد جلد 4 ص: 223 , 224 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144411100519

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں