بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

یزید نام رکھنا


سوال

یزید نام رکھنا کیسا ہے؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ  چوں کہ ہمارے معاشرے میں یہ نام بد نام ہو چکا ہے؛ اس لیے  اس کو نام کے طور پر رکھنا مناسب نہیں، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعض تابعین کا نام "یزید"  تھا، اس لیے اگر کوئی ان کی نسبت سے "یزید" نام رکھتا ہے تو رکھ سکتاہے، یہ نام درست ہے۔ لیکن   چوں کہ عوام میں" یزید" واقعہ کربلا  کی  وجہ سے ظلم و جبر اور  ناحق کے استعارے  کے  طور  پر مشہور ہے؛ اس لیے یہ نام   بچے  کے  لیے پریشانی کا باعث ہوسکتا ہے۔

تہذیب الکمال فی اسماء الرجال(83/32):

"يزيد بن الأسود، السوائي، ويُقال: الخزاعي، ويُقال: العامري، حليف قريش، لهُ صُحبَةٌ، وهو والد جابر بْن يزيد بْن الأسود، عداده فِي الكوفيين.

شهد الصلاة مع رَسُول اللَّهِ صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، وروى عنه حديثاً في الصلاة ...

يزيد بن الأصم ، واسم الأصم عَمْرو، ويُقال: عَبْد عَمْرو بْن عُبَيد، ويُقال: عدس بْن معاوية بْن عبادة، ويُقال: عدس بْن معاوية بْن معاوية بْن عبادة بْن البكاء بْن عامر ابْن ربيعة بْن عامر بْن صعصعة العامري البكائي، أَبُو عوف الكوفي نزيل الرقة. أمه برزة بنت الحارث أخت ميمونة بنت الحارث زوج النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، وخالة عَبد اللَّهِ بْن عباس. قيل: إن لَهُ رؤية من النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.

وروى عَن: سعد بْن أَبي وقاص، وابن خالته عَبد اللَّهِ بْن عباس."

وفیہ ایضا (86/32):

"يزيد بن أمية (2) ، أَبُو سنان الدؤلي المدني، والد سنان بْن أَبي سنان، ويُقال: اسمه ربيعة.رَوَى عَن: عَبد اللَّهِ بْن عباس (د س ق) ، وعلي بْن أَبي طالب، وأبي واقد الليثي.رَوَى عَنه: زيد بْن أسلم، ومحمد بْن مسلم بْن شهاب الزُّهْرِيّ (د س ق) ، ونافع مولى ابْن عُمَر.قال أبو زُرْعَة (3) : ثقة."

وفیہ ایضا (89/32):

" يزيد بن أَبي أمية الأَعور (1) ، يقال: إِنَّهُ ابْن أخي عُثْمَان بْن أَبي العاص الثقفي.رَوَى عَن: عَبد اللَّهِ بْن عُمَر بْن الخطاب، ويوسف بن عَبد اللَّهِ بن سلام (تم) .رَوَى عَنه: مُحَمَّد بْن أَبي يحيى الأَسلميّ."

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144205200633

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں