بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

یزدان علی نام رکھنا


سوال

میرے بیٹے کا نام یزدان علی ہے؟کیا یہ نام مسلمان بچے کا رکھا جاسکتاہے؟

جواب

فارسی زبان میں  "یزدان "  کے  متعدد   معانی آتے ہیں،  جیسے:  آتش  پرستوں کا معبود  ( آتش پرستوں  کے عقیدہ کے مطابق  دنیا میں دو معبود ہیں، ایک خیرکا خالق ہے جو کہ " یزدان"  ہے،  دوسرا  شر کا خالق ہے جو کہ "اہرمن"  یعنی شیطان ہے)   ، خدا، رب، معبود۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں  "یزدان علی"  نام رکھنا درست نہیں۔اس کے بجائے صحابہ کرامؓ کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کرکے، یا عربی زبان کا کوئی بامعنی نام رکھ لیجیے۔نیز ناموں کی تلاش کے لیے ہماری ویب سائٹ پر ’’اسلام نام‘‘کے سیکشن سے بھی انتخاب کرسکتے ہیں۔

مفاتيح العلوم للخوارزمي   میں ہے:

"الهرابذة هم عبدة النيران وأحدهم: هربذ.يزدان: خالق الخير بزعم المجوس.أهرمن: خالق الشر بزعمهم."

( المقالة الأولى،   في الكلام،   الفصل الخامس: في أسامي أرباب الملل والنحل المختلفة، ص:56، ط: دار الكتاب الاسلامي)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: («القدرية مجوس هذه الأمة»)، أي: أمة الإجابة؛ لأن قولهم: أفعال العباد مخلوقة بقدرهم يشبه قول المجوس القائلين بأن للعالم إلهين: خالق الخير، وهو يزدان، وخالق الشر، وهو أهرمن؛ أي: الشيطان."

(كتاب الإيمان، باب الإيمان بالقدر، 1/186، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100205

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں