بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1445ھ 30 ستمبر 2023 ء

دارالافتاء

 

یتیم کے مال کی زکات کا حکم


سوال

ایسے یتیم جن کے ماں باپ وفات پا چکے ہوں، اور وہ تعلیم حاصل کر رہے ہوں، اور  ان کی ماں کی طرف سے وراثت میں پیسے اور تن خواہ یعنی پینشن مل رہی ہو۔  کیا ان پر وراثت اور پینشن کی اس رقم کی زکات نکالنا لازم ہے جب کہ یہ  پیسہ ابھی تک تمام بھائی بہنوں میں تقسیم نہیں ہوا؟

جواب

واضح رہے کہ یتیم اُس نابالغ کو کہتے ہیں جس کے والد کا انتقال ہو گیا ہو اور جس طرح نماز ،روزہ  ، حج اور دیگر عبادات نابالغ پر فرض نہیں ہیں اسی طرح اس پر زکات بھی فرض نہیں ہے ۔البتہ ااگر وہ بالغ ہوچکاہو تو وہ یتیم نہیں کہلائے گا اور وہ شریعت کے سارے احکام نماز روزے زکاۃ وغیرہ کا مکلف ہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص اگر نابالغ ہو اور مرحومہ ماں کی طرف سے ان کو  ملنے والی رقم زکات کے نصاب تک پہنچتی ہو(اگرچہ ان کے درمیان تقسیم نہیں ہوئی ہو)   تب بھی نابالغ ہونے کی وجہ سے اس مال پر زکات  واجب نہیں ہوگی ۔

حدیث شریف میں ہے:

"ذيال بن عبيد، قال: سمعت جدي حنظلة بن حذيم بن حنيفة قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يتم بعد احتلام ولا يتم على جارية إذا حاضت»."

(النفقة على العيال لابن أبي الدنيا،‌‌‌‌باب في اليتامى، ج:2، ص:806، ط: دار ابن القيم)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وشرط افتراضها عقل وبلوغ...  (قوله عقل وبلوغ) فلا تجب على مجنون وصبي لأنها عبادة محضة وليسا مخاطبين بها، وإيجاب النفقات والغرامات لكونها من حقوق العباد والعشر، وصدقة الفطر لأن فيهما معنى المؤنة."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:258، ط: دار الفكر)

العنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے:

"وقوله (ولو أوصى لأيتام فلان) اليتيم اسم لمن مات أبوه قبل الحلم. قال - صلى الله عليه وسلم - «لا يتم بعد احتلام»."

(كتاب الوصايا، باب الوصية للأقارب وغيرهم، ج:10، ص:480، ط: دار الفكر)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(ومنها العقل والبلوغ) فليس الزكاة على صبي ومجنون إذا وجد منه الجنون في السنة كلها."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:172، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144409100168

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں