بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

یتیم کے حرام مال کے استعمال کا حکم


سوال

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یتیموں کے پاک مال کو اپنے ناقص اور گندے مال سے نہ بدلو۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ان کا مال حرام طریقے سے کمایا گیا ہو تو تب وہ ان کے لیے حلال ہے یا حرام؟

جواب

حرام طریقے سے کمایا گیا مال کسی کےلیے بھی شرعا جائز نہیں،نہ ہی یتیم کے لیے اور نہ ہی  ولی کےلیے،کیوں کہ حرام مال کو  اصل مالک پرلوٹانا ضروری ہے اور اگر اصل مالک معلوم نہ ہو تو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا  لازم ہے،چناں چہ یتیم کے مال سے اپنے  مال  کا تبادلہ  کرنا شرعا  نا جائز ہے، اگرچہ وہ حرام  طریقے سے ہی کیوں نہ کمایا گیا ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله إلا في حق الوارث إلخ) أي فإنه إذا علم أن كسب مورثه حرام يحل له، لكن إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج:5، ص:99،ط: سعيد)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"يأمر تعالى بدفع أموال اليتامى إليهم إذا بلغوا الحلم كاملة موفرة، وينهى عن أكلها وضمها إلى أموالهم؛ ولهذا قال: {ولا تتبدلوا الخبيث بالطيب} قال سفيان الثوري، عن أبي صالح: لا تعجل بالرزق الحرام قبل أن يأتيك الرزق الحلال الذي قدر لك. وقال سعيد بن جبير: لا تبدلوا الحرام من أموال الناس بالحلال من أموالكم، يقول: لا تبذروا أموالكم الحلال وتأكلوا أموالهم الحرام. وقال سعيد بن المسيب والزهري: لا تعط مهزولا وتأخذ سمينا. وقال إبراهيم النخعي والضحاك: لا تعط زائفا وتأخذ جيدا. وقال السدي: كان أحدهم يأخذ الشاة السمينة من غنم اليتيم، ويجعل فيها مكانها الشاة المهزولة، ويقول (9) شاة بشاة، ويأخذ الدرهم الجيد ويطرح مكانه الزيف، ويقول: درهم بدرهم.

وقوله: {ولا تأكلوا أموالهم إلى أموالكم} قال مجاهد، وسعيد بن جبير، ومقاتل بن حيان، والسدي، وسفيان بن حسين: أي لا تخلطوها فتأكلوها جميعاوقوله: {إنه كان حوبا كبيرا} قال ابن عباس: أي إثما كبيرا عظيما."

(سورة النساء، الآية:2، ج:2، ص: 207، دار طيبة للنشر والتوزيع)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508102235

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں