بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

یکم رجب سے کفارے کے روزے شروع کرے، لیکن شعبان کا مہینہ 29 کا ہو تو اس ایک روزے کا کیاحکم ہے؟


سوال

اگر کوئی شخص یکم رجب المرجب سے کفارے کے روزے شروع کرے، لیکن شعبان کا مہینہ 29 کا ہو تو اس ایک روزے کا کیاحکم ہے؟

جواب

 جوشخص کفارے کے روزے کسی بھی اسلامی مہینے کی پہلی تاریخ سے رکھے تو اس پر دو اسلامی مہینے روزے لگاتار رکھنا لازم ہوتے ہیں، لہذا ایسی صورت میں   اگرچہ دونو ں مہینے 29 روز کے ہوں تو   58  روزے  رکھنے سے کفارہ مکمل ہوجاۓ گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(صام شهرين ولو ثمانية وخمسين) بالهلال وإلا فستين يوما.... قال المحقق تحته:وحاصله أنه إذا ابتدأ الصوم في أول الشهر كفاه ‌صوم ‌شهرين ‌تامين، أو ناقصين، وكذا لو كان أحدهما تاما والآخر ناقصا (قوله: وإلا) أي وإن لم يكن صومه في أول الشهر برؤية الهلال بأن غم، أو صام في أثناء شهر فإنه يصوم ستين يوما. وفي كافي الحاكم وإن صام شهرا بالهلال تسعة وعشرين وقد صام قبله خمسة عشر وبعده خمسة عشر يوما أجزأه."

(‌‌كتاب الطلاق،‌‌باب الظهار،باب كفارة الظهار،472/3، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144501101403

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں