بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

یہودی کا جنازہ گزرنے کے متعلق ایک واقعہ کی تحقیق


سوال

کیا یہ حدیث ہے؟ اگر ہےتوحوالہ بتاکر اہ نمائی فرمائیں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ مبارک سے آنسو جاری ہوگئے،  صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ یہ تو غیر مسلم کا جنازہ ہے،آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت  میں سے تو ہے اور جنت کی بجائے جہنم میں جا رہا ہے۔

جواب

یہودی کے جنازہ کے  واقعہ سے متعلق سوال میں جو تفصیل آپ نے ذکرکی ہے، یہ  واقعہ اس  تفصیل کے ساتھ ہمیں حدیث کی کتابوں میں  کافی تلاش کے باوجودنہیں ملا،  لہذا جب تک کسی معتبر سند سے یہ واقعہ  مذکورہ تفصیل کے ساتھ ثابت نہ ہو تو اسے   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا درست نہیں ۔ البتہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں  کچھ  فرق کے ساتھ اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ ملتا ہے۔ 

صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہمافرماتےہیں: ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیےکھڑے ہوگئےتو آپ کےقیام کی وجہ سےہم بھی کھڑے ہوگئے،(اور)ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!یہ تو یہودی کاجنازہ ہے(آپ اس کے لیے کیوں کھڑے ہوئے؟)آپ نے فرمایا:جب تم جنازہ دیکھوتو کھڑے ہوجایاکرو۔

​صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں: ایک جنازہ گزرا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہوگئےتو ہم (بھی) آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے،(اور)ہم نے عرض کیا:یہ یہودیہ(کاجنازہ ) ہے(آپ اس کے لیے کیوں کھڑے ہوئے؟)تو آپ نے فرمایا:بلاشبہ موت ایک گھبراہٹ والی چیز ہے(یعنی موت ایسی چیز ہے جسے دیکھ کرانسان پرگھبراہٹ طاری ہوتی ہو،لہذا) جب تم لوگ جنازہ دیکھوتو کھڑے ہوجایاکرو۔

​البتہ یہ واضح رہے کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کاحکم ابتداء میں تھا،بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا،لہذا اَب  جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا سنت یالازم نہیں ہے ۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-، قال: مرَّ بنا جنازةٌ فقام لها النبيُّ صلى الله عليه وسلم وقمنا به، فقلنا: يا رسول الله، إنها جنازةُ يهوديٍّ، قال: «إذا رأيتم الجنازةَ فقوموا»."

كتاب الجنائز، باب من قام لجنازة يهودي، ج: 2، ص: 85، رقم: 1311، ط: دار طوق النجاة)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر بن عبد الله-رضي الله عنهما-، قال: مرَّت جنازةٌ، فقام لها رسول الله صلّى الله عليه وسلّم، وقُمنا معه فقلنا: يا رسول الله، إنّها يهوديةٌ، فقال: «إنّ الموت فَزَعٌ، فإذا رأيتم الجنازة فقوموا» ".

(كتاب الجنائز، باب القيام للجنازة، ج:2، ص:660، رقم: 960، ط: دار إحياء التراث العربي – بيروت)

فتح الباری میں ہے:

"قوله: فقمنا، في رواية أبي ذر: وقمنا بالواو، وزاد الأصيليّ وكريمةُ له والضميرُ للقيام أي لأجل قيامه ... قال القرطبي: معناه أنّ الموت يفزع منه إشارةٌ إلى استعظامه، ومقصودُ الحديث أن لا يستمرَّ الإنسانُ على الغفلة بعد رُؤية الموت؛ لما يُشعِر ذلك من التساهل بأمر الموت، فمِنْ ثَمّ استوى فيه كون الميِّت مُسلماً أو غيرَمسلمٍ، وقال غيرُه: جَعلُ نفسِ الموت فَزَعاً مُبالغةً كما يقال: رجلٌ عَدْلٌ، قال البيضاويُّ: هو مَصدرٌ جرى مجرى الوصف للمُبالغة، وفيه تقدير: أي الموتُ ذو فزعٍ انتهى. ويؤيّد الثاني روايةُ أبي سلمة عن أبي هريرة بلفظ: إن للموت فزعاً. أخرجه ابن ماجه. وعن ابن عباس مثله عند البزار، قال: وفيه تنبيهٌ على أنّ تلك الحالة ينبغي لمن رآها أن يَقلَق من أجلها ويضطرِب، ولا يظهر منه عدم الاحتفال والمُبالاة". 

(كتاب الجنائز، باب من قام لجنازة يهودي، ج:3، ص:100، ط: دار المعرفة – بيروت)

الدر المختار مع حاشیۃ ابن عابدینمیں ہے:

"(ولا يقومُ من في المصلى لها إذا رآها) قبل وضعها، ولا من مرَّتْ عليه هو المختارُ، وما ورد فيه منسوخٌ زيلعي ... (قوله: وما ورد فيه) أي من قوله - صلى الله عليه وسلم -: «إذا رأيتم الجنازة فقوموا لها، حتى تخلفكم أو توضع» . اهـ. ح قال النوويُّ في شرح مسلم: هو بضم التاء وكسر اللام المشدّدة: أي تصيرون وراءها غائبين عنها. اهـ. مدني (قوله منسوخٌ) أي بما رواه أبو داودَ وابنُ ماجه وأحمدُ والطحاويُّ من طرق عن عليٍّ: «قام رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - ثم قعد» ولمسلمٍ بمعناه، وقال:" قد كان ثم نسخ " شرحُ المنية" .

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج: 2، ص: 232، ط: سعيد) 

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144301200232

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں