بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1442ھ 24 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

یادگار کے طور پر کیمرے سے تصویر بنانا


سوال

کيا موبائل یا کسی بھی کیمرے سے تصویر کھینچںنا یادگار کے طور پر کس حد تک جائز ہے؟ اور تصوير کشی کرنے والے سے  متعلق احادیث کی وعیدات کی واضح تشریح بھی کردیں!

جواب

دینِ اسلام میں صورت گری، و تصویر سازی کسی بھی شکل میں ہو، کسی بھی طریقے سے بنائی جائے، بناوٹ کے لیے جو بھی آلہ استعمال ہو، کسی بھی غرض و مقصد سے تصویر بنائی جائے، حرام ہے، اس تنوع واختلاف سے صورت گری اور تصویر سازی کے حکم میں کوئی فرق یانرمی نہیں آتی، نصوص کی کثیر تعداداور بے شمار فقہی تصریحات اس مضمون کے بیان پر مشتمل ہیں، جو اہلِ علم سے مخفی نہیں ہیں، ماضی قریب تک تصویر سازی کی حرمت کا مسئلہ اہلِ علم کے ہاں مسلم و متفق علیہ رہا ہے اور اسے بدیہی امور میں سمجھا جاتا تھا، یعنی جس کو عرف نے تصویر کہا وہ تصویر قرار پائی۔

لہذا کسی بھی جان دار کی تصویر کھینچنا، بنانایا بنوانا ناجائز اور حرام ہے، خواہ  اس تصویر کشی کے  لیے کوئی بھی  آلہ استعمال کیا جائے،اہلِ علم و اہلِ فتوی کی بڑی تعداد کی تحقیق کے مطابق تصویر کے جواز وعدمِ جواز کے بارےمیں ڈیجیٹل اور غیر ڈیجیٹل کی تقسیم شرعی نقطہ نظر سے ناقابلِ اعتبار ہے۔

البتہ  ضرورت و مجبوری کے مواقع میں آدمی گناہ گار نہیں ہوگا، (مثلاً : شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ  کے لیے تصویر کھنچوانا)۔ محض یادگار رکھنے  کے لیے تصاویر بنانا اور محفوظ کرنا حرام ہے،  اس لیے کہ یہ مجبوری میں داخل نہیں، نیز   مرحومین کی تصویریں رکھنا اور بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے، اس لیےکہ گزرے ہوئے نیک لوگوں کی تصاویر اور مورتیوں سے شرک کی ابتدا  ہوئی تھی  کہ لوگ ان کی عظمت اور عقیدت میں رفتہ رفتہ ان کو پوجنے لگے تھے، اس لیے  بھی اسلام میں تصویر کشی  اور تصویر سازی کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔

باقی تصویر کی حرمت اور اس پر وعید سے متعلق متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں، مسلم شریف کی  احادیث صحیحہ ملاحظہ ہوں:

"92 - (2107)"عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن أبيه ، أنه سمع عائشة ، تقول:‏‏‏‏ دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سترت سهوةً لي بقرام فيه تماثيل، ‏‏‏‏‏‏فلما رآه هتكه وتلون وجهه، ‏‏‏‏‏‏وقال: يا عائشة:‏‏‏‏ " أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله "، ‏‏‏‏‏‏قالت عائشة:‏‏‏‏ فقطعناه، ‏‏‏‏‏‏فجعلنا منه وسادةً أو وسادتين."

(صحيح مسلم (3 / 1668),باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة) 

ترجمہ: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے ایک طاق یا مچان کو اپنے ایک پردے سے ڈھانکا تھا جس میں تصویریں تھیں،  جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ کی مخلوق کی شکل بناتے ہیں۔  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں:  میں نے اس کو کاٹ کر ایک تکیہ بنایا یا دو تکیے بنائے۔

97 - (2108)"عن نافع ، أن ابن عمر أخبره، ‏‏‏‏‏‏أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ " الذين يصنعون الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم ".

(صحيح مسلم (3 / 1669), الباب المذكور)

ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ مورتیں بناتے ہیں ان کو قیامت میں عذاب ہو گا، ان سے کہا جائے گا جِلاؤ  ان کو جن کو تم نے بنایا۔“

98 - (2109)"عن مسروق ، عن عبد الله ، قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " إن أشد الناس عذاباً يوم القيامة المصورون ".

ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔“

99 - (2110)"عن سعيد بن أبي الحسن ، قال:‏‏‏‏ جاء رجل إلى ابن عباس ، فقال:‏‏‏‏ إني رجل أصور هذه الصور فأفتني فيها؟ فقال له:‏‏‏‏ ادن مني، فدنا منه، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ ادن مني، فدنا حتى وضع يده على رأسه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أنبئك بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏يقول:‏‏‏‏ " كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفساً فتعذبه في جهنم "، ‏‏‏‏‏‏وقال:‏‏‏‏ إن كنت لا بد فاعلاً فاصنع الشجر، ‏‏‏‏‏‏وما لا نفس له".

ترجمہ: سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے، ایک شخص عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں تصویر بنانے والا ہوں تو اس کا کیا حکم ہے بیان کیجیے مجھ سے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے قریب ہو، وہ ہوگیا، پھر انہوں نے کہا: قریب ہوجاؤ، چناں چہ وہ اور نزدیک ہوگیا یہاں تک کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور کہا: میں تجھ سے کہتا ہوں وہ جو میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہر ایک تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا اور ہر ایک تصویر کے بدل ایک جان دار بنایا جائے گا جو تکلیف دے گا اس کو جہنم میں۔“ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تو نے بنانا ہی ہے تو درخت کی یا کسی اور بےجان چیز کی تصویر بنا۔

100 - (2110)"عن النضر بن أنس بن مالك ، قال:‏‏‏‏ كنت جالساً عند ابن عباس، ‏‏‏‏‏‏فجعل يفتي، ‏‏‏‏‏‏لايقول:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى سأله رجل، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ إني رجل أصور هذه الصور، ‏‏‏‏‏‏فقال له ابن عباس:‏‏‏‏ ادنه فدنا الرجل، ‏‏‏‏‏‏فقال ابن عباس : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏يقول:‏‏‏‏ " من صور صورة في الدنيا كلف أن ينفخ فيها الروح يوم القيامة، ‏‏‏‏‏‏وليس بنافخ".

ترجمہ: سیدنا نضر بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ فتویٰ دیتے تھے اور حدیث نہیں بیان کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے پوچھا: میں مصور ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے پاس آ، وہ پاس آیا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص دنیا میں تصویر بنائے اس کو قیامت میں تکلیف دی جائے گی اس میں جان ڈالنے کی اور وہ جان نہ ڈال سکے گا۔“

ان احادیثِ مبارکہ سے تصویر سازی کے گناہ کی سختی کا اندازہ ہو سکتا ہے، کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب کی وعید تصویر بنانے والوں  کے لیے ہے، اور فرشتوں کو یہ اتنی مبغوض ہیں کہ وہ اس گھر میں داخل ہونا پسند نہیں کرتے جس میں تصاویر ہوں۔(اعاذنا اللہ منہا) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200344

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں