بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

یا محمد کہنا


سوال

"یا محمد" کہنا کیسا ہے؟

جواب

رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنے کی نیت سے یا حضور ﷺ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے  "یا محمد" کہنا ممنوع اور گناہ ہے۔ اس اعتقاد کے بغیر شوق اور لذت حاصل کرنے کے لیے "یا محمد" کہنے کی اجازت ہے۔ (ماخوذ امداد الفتاوی ج نمبر ۵ ص نمبر ۳۹۱،دار الاشاعت)

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ نے "یا رسول اللہ" کہنے کی  پانچ صورتیں ذکر کی ہیں:

۱)شعراء کی طرح تخیل میں حضور ﷺ کو خطاب کرکے "یا رسول اللہ کہنا۔

۲) اظہارِ محبت کے لیے یا رسول اللہ کہنا۔

۳) اس عقیدہ کے ساتھ کہنا کے فرشتہ درود پہنچاتے ہیں۔

۴) روضہ اطہر پر  یا رسول اللہ کہنا۔

۵)اس عقیدہ کے ساتھ کہنا کہ حضور ﷺ براہ راست خود اس درود کو سن رہے ہیں۔

پہلی چار صورتوں میں "یا محمد "کہنا جائز ہے اور پانچوی صورت میں ناجائز ہے۔"

(اختلاف امت اور صراط مستقیم  ص نمبر ۴۸،مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200808

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں