بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

’’یا محمد‘‘ اور ’’یا علی مدد‘‘ کہنے کا حکم


سوال

یا محمد کہنا اور یا علی مدد کہنا کیسا ہے ؟

جواب

(۱) ’’یا محمد‘‘ کہنے کا حکم:

سوال میں مذکورہ جملہ ’’ یا  محمد‘‘  لفظ ’’یا‘‘ (حرف نداء)  پر مشتمل ہے، اور لفظ "یا" عربی زبان میں کسی ایسے شخص کو پکارنے (آواز دینے)  کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اس مجلس میں حاضر ہو ، جب کہ  اہلِ  سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حاضر و ناظر ذات صرف باری تعالی کی ذاتِ اقدس ہے، اس کے علاوہ کائنات میں کوئی بھی ایسی ذات نہیں جو ہر جگہ موجود ہو اور سب کچھ دیکھ اور سن رہی ہو، یہاں تک کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم بھی حاضر و ناظر نہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حاضر و ناظر کا عقیدہ رکھنا بتصریحاتِ فقہاء کفر ہے، جیساکہ فتاوی قاضی خان میں ہے:

"رجل تزوج بإمرأة بغير شهود، فقال الرجل للمرأة: ’’خدائے را و پیغمبر را گواہ کردیم‘‘قالوا: يكون كفراً؛ لأنه اعتقد أن رسول الله صلي الله عليه وسلم يعلم الغيب، و هو ما كان يعلم الغيب حين كان في الأحياء فكيف بعد الموت". ( ٢ / ١٨٥)

ترجمہ: کسی آدمی نے بغیر گواہوں کے کسی خاتون سے شادی کی اور کہا کہ: اللہ اور پیغمبر کو گواہ بنایا، فقہاء نے کہا کہ یہ کفر ہے؛ اس  لیے کہ اس نے یہ اعتقاد رکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں، حال آں کہ وہ ( پیغمبر علیہ السلام) اپنی حیاتِ دنیوی میں غیب نہیں جانتے تھے تو موت کے بعد کیسے غیب جان سکتے ہیں۔

نیز اہلِ سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر اطہر میں حیات ہیں، اور جو شخص روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہوکر سلام پیش کرتا ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس اسے سنتے اور جواب دیتے ہیں، جس کی وجہ سے روضہ رسول پر کھڑے ہو کر ندا و صیغہ خطاب کے ذریعہ سلام پیش کرنا جائز ہے، البتہ روضہ مبارک کے علاوہ دنیا کے کسی اور مقام سے درود پڑھا جائے تو اللہ رب العزت کی جانب سے مامور فرشتے پڑھے جانے والے درود کو پڑھنے والے کے نام کے ساتھ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے ہیں، جیساکہ احادیث میں ہے:

"٩٣٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ نَائِيًا أُبْلِغْتُهُ»". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ: فِي: "شُعَبِ الْإِيمَانِ ". (مشكاة، بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَضْلِهَا، الْفَصْلُ الثَّالِثُ)

"٩٣٤ - (وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ» ) : أَيْ [سَمْعًا] حَقِيقِيًّا بِلَا وَاسِطَةٍ، قَالَ الطِّيبِيُّ: هَذَا لَايُنَافِي مَا تَقَدَّمَ مِنَ النَّهْيِ عَنِ الِاعْتِيَادِ الدَّافِعِ عَنِ الْحِشْمَةِ، وَلَا شَكَّ أَنَّ الصَّلَاةَ فِي الْحُضُورِ أَفْضَلُ مِنَ الْغَيْبَةِ. انْتَهَى. لِأَنَّ الْغَالِبَ حُضُورُ الْقَلْبِ عِنْدَ الْحَضْرَةِ وَالْغَفْلَةُ عِنْدَ الْغَيْبَةِ، ("وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ نَائِيًا ") ، أَيْ: مِنْ بَعِيدٍ كَمَا فِي رِوَايَةٍ: أَيْ بَعِيدًا عَنْ قَبْرِي (" أُبْلِغْتُهُ ") : وَفِي نُسْخَةٍ صَحِيحَةٍ: بُلِّغْتُهُ مِنَ التَّبْلِيغِ، أَيْ: أُعْلِمْتُهُ كَمَا فِي رِوَايَةٍ، وَالضَّمِيرُ رَاجِعٌ إِلَى مَصْدَرِ صَلَّى كَقَوْلِهِ تَعَالَى: {اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى} [المائدة: ٨]، (رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ)  قَالَ مِيرَكُ نَقْلًا عَنِ الشَّيْخِ: وَرَوَاهُ أَبُو الشَّيْخِ، وَابْنُ حِبَّانَ فِي كِتَابِ: ثَوَابِ الْأَعْمَالِ، بِسَنَدٍ جَيِّدٍ". (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابح، بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَضْلِهَا، الْفَصْلُ الثَّالِثُ)

"  ٩٢٤ - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِيَ السَّلَامَ» "، رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ". (مشكاة، بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَضْلِهَا، الْفَصْلُ الثاني)

"٩٢٤ - (وَعَنْهُ) ، أَيْ: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ (قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً» ") ، أَيْ: جَمَاعَةً مِنْهُمْ (" سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ ") ، أَيْ: سَيَّارِينَ بِكَثْرَةٍ فِي سَاحَةِ الْأَرْضِ مِنْ سَاحَ: ذَهَبَ، فِي الْقَامُوسِ: سَاحَ الْمَاءُ جَرَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، (" يُبَلِّغُونِي ") : مِنَ التَّبْلِيغِ، وَقِيلَ: مِنَ الْإِبْلَاغِ، وَرُوِيَ بِتَخْفِيفِ النُّونِ عَلَى حَذْفِ إِحْدَى النُّونَيْنِ، وَقِيلَ: بِتَشْدِيدِهَا عَلَى الْإِدْغَامِ، أَيْ: يُوَصِّلُونَ (" مِنْ أُمَّتِيَ السَّلَامَ ") : إِذَا سَلَّمُوا عَلَيَّ قَلِيلًا أَوْ كَثِيرًا، وَهَذَا مَخْصُوصٌ بِمَنْ بَعُدَ عَنْ حَضْرَةِ مَرْقَدِهِ الْمُنَوَّرِ وَمَضْجَعِهِ الْمُطَهَّرِ، وَفِيهِ إِشَارَةٌ إِلَى حَيَاتِهِ الدَّائِمَةِ وَفَرَحِهِ بِبُلُوغِ سَلَامِ أُمَّتِهِ الْكَامِلَةِ، وَإِيمَاءٌ إِلَى قَبُولِ السَّلَامِ حَيْثُ قَبِلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَحَمَلَتْهُ إِلَيْهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَسَيَأْتِي أَنَّهُ يَرُدُّ السَّلَامَ عَلَى مَنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ، (رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ) : قَالَ مِيرَكُ: وَرَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِمَا " فِي الْأَرْضِ ". وَاعْلَمْ أَنَّ الْمَفْهُومَ مِنْ كَلَامِ الشَّيْخِ الْجَزَرِيِّ أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْوِيٌّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَظَاهِرُ إِيرَادِ الْمُصَنِّفِ يَقْتَضِي أَنَّهُ مَرْوِيٌّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَتَأَمَّلْ. قَالَ ابْنُ حَجَرٍ: وَرَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، وَالْبَيْهَقِيُّ، وَذَكَرَ ابْنُ عَسَاكِرَ طُرُقًا مُتَعَدِّدَةً وَحَسَّنَ بَعْضَهَا، ثُمَّ قَالَ: وَفِي رِوَايَةٍ بِسَنَدٍ حَسَنٍ إِلَّا أَنَّ فِيهِ مَجْهُولًا، " «حَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي» ". (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَضْلِهَا، الْفَصْلُ الثَّالِثُ)

مذکورہ بالا تمہید کے بعد  جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنے کی نیت سے یا حضور ﷺ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے  "یا محمد" کہنا ممنوع اور گناہ ہے۔ اس اعتقاد کے بغیر شوق اور لذت حاصل کرنے کے لیے "یا محمد" کہنے کی اگرچہ گنجائش ہے لیکن چوں کہ بہت سے عوام یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضور ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں اور  ہر جگہ سے ’’یا محمد‘‘  یا  ’’یارسول اللہ‘‘  کہنے والے کی آواز سن لیتے ہیں اس لئے اس طرح کہنے سے لوگوں کو شبہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اہلِ بدعت کی طرح) حاضر وناظر سمجھ کر اس طرح کہا جارہاہے، دل کا حال کسی کو معلوم نہیں، اس لیے روضۂ رسول ﷺ کے علاوہ دیگر جگہوں میں ’’یا محمد‘‘ اور اس جیسے جملے کہنے سے احتیاط بہتر ہے، اس لیے علمائے کرام غائبانہ اس لفظ ’’یا‘‘ کے ذریعہ درود و سلام پڑھنے سے بھی منع کرتے ہیں ۔

امداد الفتاوی میں ہے:

"بارادۂ استعانت و استغاثہ یا باعتقاد حاضر وناظر ہونے کے منہی عنہ  اوربدون اس اعتقاد کے محض شوقاً و استلذاذاً ماذون فیہ ہے، چوں کہ اشعار پڑھنے کی غرض محض اظہار شوق و استلذاذ ہو تاہے؛ اس  لیے نقل میں توسع کیا گیا، لیکن اگر کسی جگہ اس کے خلاف دیکھا جائے گا، منع کر دیا جائے گا۔"

( امداد الفتاوی ج نمبر ۵ ص نمبر ۳۹۱،دار الاشاعت)

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ نے "یا رسول اللہ" کہنے کی  پانچ صورتیں ذکر کی ہیں:

۱)شعراء کی طرح تخیل میں حضور ﷺ کو خطاب کرکے "یا رسول اللہ"  کہنا۔

۲) اظہارِ محبت کے لیے  "یا رسول اللہ"  کہنا۔

۳) اس عقیدہ کے ساتھ کہنا کہ  فرشتے  درود پہنچاتے ہیں۔

۴) روضۂ  اطہر پر   "یا رسول اللہ"  کہنا۔

۵)اس عقیدہ کے ساتھ کہنا کہ حضور ﷺ براہِ  راست خود اس درود کو سن رہے ہیں۔

پہلی چار صورتوں میں "یا محمد "کہنا جائز ہے اور پانچویں  صورت میں ناجائز ہے۔"

(اختلاف امت اور صراط مستقیم  ص نمبر ۴۸،مکتبہ لدھیانوی)

ملحوظ رہے کہ بریلوی فرقے کے بارے میں ہمارے اکابر نے کفر یا شرک کا فتویٰ نہیں دیا، گو ان سے رسول اللہ ﷺ کے حاضر ناظر ہونے کے تصریحات منقول ہیں، اس کی وجہ ان حضرات کا اس نظریے میں تاویل کرنا ہے،  سابق مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمہ اللہ کا ایک فتویٰ سوال و جواب کی عبارت کے ساتھ درج ذیل ہے:

’’سوال: فرقہ بریلویہ جن کے عقائد مشہور و معروف ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لیےعلمِ غیب کلی عطائی اور آپ ﷺ کو حاضر و ناظر و مختارِ کل مانتے ہیں، نیز آپ ﷺ کو نور مان کر صورۃً بشر کہتے ہیں، علاوہ ازیں نذر لغیر اللہ کو نہ صرف مانتے ہیں، بلکہ اس کی دعوت بھی دیتے ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس فرقہ کو مشرک و کافر کہا جائے یا مسلمان مبتدع ضال و مضل؟ 

جواب:کافر و مشرک کہنا مشکل ہے، اکابرِ دیوبند نے ان لوگوں پر ان عقائدِ کفریہ و شرکیہ کے باوجود کفر کا فتویٰ نہیں دیا، اس لیے مبتدع اور ضال مضل کہہ سکتے ہیں، کافر نہیں۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: ولی حسن (21/4/1400)‘‘

(۲)’’یا علی مدد‘‘ کہنے کا حکم:

’’ یا علی مدد ‘‘ کہنے کا حکم بیان کرنے سے پہلے بطور تمہید یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی سے مدد مانگنے کی دو صورتیں ہیں :

[۱]: اس کے بارے میں  یہ عقیدہ رکھنا کہ اس میں ذاتی طور پر قدرت و طاقت ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے، یہ شرک اور کفر ہے ،اسی طرح  کسی غیر خدا کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اس کو خدا نے تمام اختیار دے دیے  ہیں اور وہ جو چاہے کرسکتا ہے ،ہر قسم کی مرادیں ہر جگہ سے اس سے مانگنی چاہییں، یہ بھی شرک ہے جو  ناجائز  اور حرام ہے۔مشکل کشا، حاجت روا اور متصرف فی الامور ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔

[۲]: کسی بھی غیرِ خدا سے ظاہری استعانت کرنا، یعنی جو عادتاً انسان کے بس میں ہوتا ہے، مثلاً: روپیہ، پیسہ ،کپڑا، وغیرہ دینا، یہ چیزیں اگر کسی سے مانگی جائیں تو یہ درست ہے۔

لہذا   "یا علی مدد"  کہنا جائز نہیں ہے،  اس لیے کہ اگر اس سے مقصود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو  پکار کر ان سے استغاثہ ہو  اور یہ اعتقاد ہو کہ ان کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں، جو چاہیں جس کی چاہیں مدد کرسکتے ہیں تو  یہ  کفر اور شرک ہے۔ اگر یہ اعتقاد نہ ہو  تب  یہ موہمِ شرک ضرور ہیں،  نیز اللہ تعالیٰ کو  اس کی صفتِ علی سے پکارنا مقصود ہو تو  بعینہ ان الفاظ  (یاعلی مدد) سے نہ پکارا جائے؛ اس لیے  کہ  "یاعلی مدد" ایک خاص باطل نظریے اور عقیدے کی علامت بن گیا ہے، یعنی یہ کلمہ  ایک باطل فرقے کا شعار ہے ، بلکہ  بعض اہلِ باطل تو اس کلمہ ’’ یا علی مدد ‘‘ کو اُلوہیتِ علی (رضی اللہ عنہ) کے عقیدے سے  کہتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کو پکارنے کی نیت سے بھی یہ کلمہ کہنا درست نہیں ہے۔

تفسیر روح المعانی  میں ہے:

"الثاني: أن الناس قد أكثروا من دعاء غير الله تعالى من الأولياء الأحياء منهم والأموات وغيرهم، مثل يا سيدي فلان أغثني، وليس ذلك من التوسل المباح في شيء، واللائق بحال المؤمن عدم التفوه بذلك وأن لا يحوم حول حماه، وقد عدّه أناس من العلماء شركا وأن لا يكنه، فهو قريب منه ولا أرى أحدا ممن يقول ذلك إلا وهو يعتقد أن المدعو الحي الغائب أو الميت المغيب يعلم الغيب أو يسمع النداء ويقدر بالذات أو بالغير على جلب الخير ودفع الأذى وإلا لما دعاه ولا فتح فاه، وفي ذلك بلاء من ربكم عظيم، فالحزم التجنب عن ذلك وعدم الطلب إلا من الله تعالى القوي الغني الفعال لما يريد."

(سورة المائد رقم الأية ٣٥، ٣ / ٢٩٧ - ٢٩٨، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210201398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں