بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

یا علی مدد کہنے کے متعلق شرعی حکم


سوال

یا علی مدد کہنے کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

اللہ کے علاوہ کسی سے مدد مانگنے کی دو صورتیں ہیں :

[۱]: اس کے بارے میں  یہ عقیدہ رکھنا کہ اس میں ذاتی طور پر قدرت و طاقت ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے، یہ شرک اور کفر ہے ،اسی طرح  کسی غیر خدا کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اس کو خدا نے تمام اختیار دے دیے  ہیں اور وہ جو چاہے کرسکتا ہے ،ہر قسم کی مرادیں ہر جگہ سے اس سے مانگنی چاہییں، یہ بھی شرک ہے جو  ناجائز  اور حرام ہے۔مشکل کشا، حاجت روا اور متصرف فی الامور ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔

[۲]: کسی بھی غیرِ خدا سے ظاہری استعانت کرنا، یعنی جو عادتاً انسان کے بس میں ہوتا ہے، مثلاً: روپیہ، پیسہ ،کپڑا، وغیرہ دینا۔یہ چیزیں اگر کسی سے مانگی جائیں تو یہ درست ہے۔

لہذا   "یا علی مدد"  کہنا جائز نہیں ہے،  اس لیے کہ اگر اس سے مقصود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکار کر ان سے استغاثہ ہو  اور یہ اعتقاد ہو کہ ان کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں، جو چاہیں جس کی چاہیں مدد کرسکتے ہیں تو  یہ  کفر اور شرک ہے۔ اگر یہ اعتقاد نہ ہو  تب  یہ موہمِ شرک ضرور ہیں،  نیز اللہ تعالیٰ کو  اس کی صفتِ علی سے پکارنا مقصود ہو تو  بعینہ ان الفاظ  (یاعلی مدد) سے نہ پکارا جائے؛ اس لیے  کہ  "یاعلی مدد" ایک خاص نظریے اور عقیدے کی علامت بن گیا ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے۔

نیز "یاعلی مدد" میں اگرچہ ایک احتمال درست معنیٰ کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ علو مراد ہو، اور اس سے مدد مانگی جائے، لیکن چوں کہ ایک باطل فرقے کا شعار ہے، اور ان کے ہاں مافوق الفطرت استعانت بھی اس میں داخل ہے، اور بعض اہلِ باطل اُلوہیتَ علی (رضی اللہ عنہ) کے عقیدے سے کہتے ہیں، اس لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے۔

"إن الناس قد أكثروا من دعاء غیر الله تعالى من الأولیاء الأحیاء منهم والأموات وغیرهم مثل: یا سیدي فلان أغثني و لیس ذلك من التوسل المباح في شيء ․․․ وقد عدّه أناس من العلماء شركًا"․

(روح المعاني: ۲/۱۲۸)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144201200155

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں