بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 شوال 1443ھ 20 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

وضو میں پاؤں دو گھنٹے بعد دھونے کا حکم


سوال

کیا وضو ایک مجلس میں ہی ضروری ہے یا مختلف اوقات میں بھی اعضاء دھوئے جا سکتے ہیں؟ زید نے وضو شروع کیا،  مسح کر لیا پاؤں 2 گھنٹےبعد دھوئے،  کیا اس طرح وضو ہو گیا یا نہیں؟

جواب

وضو  کی سنتوں میں سے ہے کہ وضو کے اَعضاء کو پے در پے دھویا جائے، یعنی ایک عضو کے خشک ہونے سے پہلے دوسرا عضو دھویا جائے،  اگر کوئی شخص ایسا نہیں کرتا، بلکہ وضو میں بعض اعضاء دھو لیتا ہے اور پاؤں نہیں دھوتا، پاؤں دو گھنٹے بعد  دھوتا ہے  اور درمیان میں حدث لاحق نہیں ہوا، (یعنی وضو یا غسل توڑنے والا کوئی سبب نہیں پایا گیا) تو ایسا کرنے  سے  (اتنے وقفے کے بعد بقیہ اعضاء دھونے سے) مذکورہ شخص سنت کا تارک ضرور ہوا،  لیکن وضو درست ہو جائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 122):

"(والولاء) بكسر الواو: غسل المتأخر أو مسحه قبل جفاف الأول بلا عذر حتى لو فني ماؤه فمضى لطلبه لا بأس به."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200249

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں