بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

وضو کے بغیر یا جنابت کی حالت میں نماز پڑھنے سے نکاح ٹوٹنے کا حکم


سوال

بہت سالوں پہلے ابو، امی نماز پڑھنے کا کہتے تھے، میں اکثر اوقات صرف دکھانے کے لیے چہرا، ہاتھ، پاؤں  دھولیاکرتا تھا  اور صرف دکھانے کے لیے نماز کا طریقہ/ہیئت ادا کرتا اور اس میں کچھ پڑھتا نہیں تھا اور کبھی کبھار حالتِ جنابت میں بھی اس طرح کرتا تھا اور ایک دفعہ جمعہ کی نماز حالتِ جنابت میں پڑھی تھی، کیا ایسا کرنے سے  نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑتا؟

جواب

اگر کوئی شخص حالتِ جنابت (یعنی غسل واجب ہونے کی حالت) میں یا وضو کے بغیر نماز پڑھنے کو جائز اور درست سمجھتا ہے، یا دین یا نماز کے استخفاف، حقارت اور اہانت کی غرض سے وضو یا غسل واجب ہونے کی صورت میں غسل کے بغیر نماز پڑھتا ہے یا سجدہ کرتا ہے تو  ایسا شخص حکمِ شرعی کی اہانت، استخفاف اور  فرض کے انکار کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور  اس پر تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح کرنا بھی لازم ہوتا ہے،لیکن اگر کوئی شخص غسلِ جنابت کیے بغیر  نماز پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتا، اور نہ ہی شریعت کی اہانت کی غرض سے ایسا کرتا ہے، بلکہ لاعلمی میں یا غلطی سے یا سستی، کاہلی  کی وجہ سے غسلِ جنابت کیے بغیر نماز پڑھتا ہے تو  اس عمل سے یہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوگا، لیکن غفلت،لاعلمی، سستی اور کاہلی  کی وجہ سے ایسا کرنا سنگین گناہ ہے، جس پر سچے دل سے توبہ واستغفار کرنااورآئندہ کے لیے اس عمل سے اجتناب کرنے کا عزم کرنا ضروری ہےاورایسی صورت میں نماز کا اعادہ بھی   لازم ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ تفصیل کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کا نکاح بدستور برقرار ہے، البتہ آپ کو اپنے اس فعل پر توبہ کرنی چاہیے، اور دوبارہ ایسی حرکات کا ارتکاب کرنے سے گریز کریں جن میں اہانتِ دین اور استخفافِ ارکانِ اسلام کا شائبہ پایا جائے، اس کے ساتھ ساتھ ان تمام نمازوں کا اعادہ کرنا بھی آپ پر لازم ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قلت: وبه ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس، وهو ظاهر المذهب كما في الخانية، وفي سير الوهبانية: وفي كفر من صلى بغير طهارة … مع العمد خلف في الروايات يسطر.

(قوله: غير مكفر) أشار به إلى الرد على بعض المشايخ، حيث قال المختار أنه يكفر بالصلاة بغير طهارة لا بالصلاة بالثوب النجس وإلى غير القبلة لجواز الأخيرتين حالة العذر بخلاف الأولى فإنه لا يؤتى بها بحال فيكفر. قال الصدر الشهيد: وبه نأخذ ذكره في الخلاصة والذخيرة، وبحث فيه في الحلية بوجهين: أحدهما ما أشار إليه الشارح. ثانيهما أن الجواز بعذر لا يؤثر في عدم الإكفار بلا عذر؛ لأن الموجب للإكفار في هذه المسائل هو الاستهانة، فحيث ثبتت الاستهانة في الكل تساوى الكل في الإكفار، وحيث انتفت منها تساوت في عدمه، وذلك لأنه ليس حكم الفرض لزوم الكفر بتركه، وإلا كان كل تارك لفرض كافرا، وإنما حكمه لزوم الكفر بجحده بلا شبهة دارئة اهـ ملخصا: أي والاستخفاف في حكم الجحود. (قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة وأن الإكفار رواية النوادر. وفي ظاهر الرواية لا يكون كفرا، وإنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفرا عند الكل. اهـ. أقول: وهذا مؤيد لما بحثه في الحلية لكن بعد اعتبار كونه مستخفا ومستهينا بالدين كما علمت من كلام الخانية، وهو بمعنى الاستهزاء والسخرية به، أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا وهينا من غير استهزاء ولا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لا يكون كفرا عند الكل تأمل. (قوله: مع العمد) أي حال كونه مصاحبا للعمد ط. (قوله: خلف) أي اختلاف بين أهل المذهب والمعتمد عدم التفكير كما هو ظاهر المذهب."

(كتاب الطهارة، ج:١، ص:٨١، ط:سعيد)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"يكفر إذا صلى إلى غير القبلة متعمدا، فوافق ذلك القبلة قال أبو حنيفة: - رحمه الله تعالى - هو كافر، وبه أخذ الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى - وكذا إذا صلى بغير طهارة، أو صلى مع الثوب النجس، ولو ‌صلى ‌بغير ‌وضوء متعمدا يكفر قال الصدر الشهيد - رحمه الله تعالى - وبه نأخذ."

(كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدين، مطلب في موجبات الكفر، ج:٢، ص:٢٦٩، ط:رشيدية)

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں ہے:

"صورتِ مسئولہ میں زید بدستور مسلمان اور اس کا نکاح بدستور قائم ہے، اس کو اپنے فعل پر توبہ کرنی چاہیے، اس پر لازم ہے کہ کبھی ایسی حرکات کا ارتکاب نہ کرے جس میں اہانتِ دین اور استخفافِ ارکانِ اسلام کا مشتبہ ہو سکتا ہے، بہرحال معتمد اس صورت میں عدم تکفیر ہی ہے۔"

(کتاب السیر، باب أحکام المرتد، ج:12، ص:247، ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100303

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں