بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

وضو کے دوران بات کرنے سے فرشتہ چلے جاتے ہیں اس کی کوئی حقیقت ہے یا نہیں؟


سوال

میرے گاؤں میں ایک مسجد کے امام صاحب نےکہا کہ وضو کے وقت بات مت کرو؛ کیوں کہ اس وقت چار فرشتے وضو کرنے والے کو چادر میں ڈھانپ لیتے ہیں،  اب جب بھی وضو کرنے والا شخص ایک بات بول لیتا ہے تو ایک فرشتہ چادر کے ایک کنارے کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے، اسی طرح وضو کرنے والا شخص بات کرتا رہتا  اور چاروں فرشتوں چلے جاتے ہیں ،یہ بات کہا تک درست ہے؟ 

جواب

یہاں دوباتیں الگ الگ ہیں : 1۔ فرشتوں کا انسان کے ساتھ ہونا، 2۔ وضو کرتے وقت بات چیت کرنے کاحکم 

1۔واضح رہے کہ  کچھ مواقع ایسے ہیں جس میں فرشتے انسان سے الگ ہوجاتے ہیں ،ایک حدیث شریف میں ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رب العزت نے تمہیں برہنہ ہونے سے منع کیا ہے، لہذا ان فرشتوں سےحیا کرو جو تمہارے ساتھ ہوتے ہیں، یعنی کراماً کاتبین، جو تم سے صرف تین حالتوں میں الگ ہوتے ہیں: قضائے حاجت کے وقت، حالتِ جنابت میں اور غسل کرتے وقت، جب تم میں سے کوئی شخص کھلے میدان میں غسل کرے تو کپڑے سے اپنے آپ کو ڈھانپ لے، یا دیوار یا سواری وغیرہ کی آڑ لے لے“۔

اور ایک اور حدیث شریف  میں ہے   ”حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم برہنہ ہونے سے اجتناب کرو( اگرچہ تنہائی کیوں نہ ہو)؛ کیوں کہ پاخانہ اور اپنی بیوی سے مجامعت کے اوقات کے علاوہ تمہارے ساتھ ہر وقت وہ فرشتے ہوتے ہیں جو تمہارے اعمال لکھنے پر مامور ہیں؛ لہذا تم ان فرشتوں سے حیا کرو اور ان کی تعظیم کرو“۔

2۔ وضوء کے دوران بات چیت کرنے سے متعلق حکم یہ ہے کہ وضو کے آداب میں سے ہے کہ وضو کے  دوران بلا ضرورت  بات چیت نہ کی جائے، لیکن اگر کسی سے بات کرنے کی ضرورت پیش آجائے اور بات نہ کرنے کی صورت میں اس  ضرورت کے فوت ہونے کا خطرہ ہو تو بات چیت کرنا خلافِ ادب نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں یہ بات ” وضو کے  وقت چار فرشتے وضو کرنے والے کو چادر میں ڈھانپ لیتے ہیں،  اب جب بھی وضو کرنے والا شخص ایک بات بول لیتا ہے تو ایک فرشتہ چادر کے ایک کنارے کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے، اسی طرح وضو کرنے والا شخص بات کرتا رہتا  اور چاروں فرشتوں چلے جاتے ہیں “ متداول اور مستند کتابوں میں نہیں ملی۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے :

"وقوله تعالى: وإن عليكم لحافظين ‌كراما ‌كاتبين يعلمون ما تفعلون يعني وإن عليكم لملائكة حفظة كراما فلا تقابلوهم بالقبائح فإنهم يكتبون عليكم جميع أعمالكم. قال ابن أبي حاتم حدثنا أبي حدثنا علي بن محمد الطنافسي حدثنا وكيع سفيان ومسعر عن علقمة بن مرثد حدثنا عن مجاهد عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أكرموا الكرام الكاتبين الذين لا يفارقونكم إلا عند إحدى حالتين الجنابة والغائط، فإذا اغتسل أحدكم فليستتر بجرم حائط أو ببعيره أو ليستره أخوه» .

وقد رواه الحافظ أبو بكر البزار فوصله بلفظ آخر فقال: حدثنا محمد بن عثمان بن كرامة حدثنا عبيد الله بن موسى عن حفص بن سليمان عن علقمة بن مرثد عن مجاهد عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله ينهاكم عن التعري فاستحيوا من ملائكة الله الذين معكم الكرام الكاتبين الذين لا يفارقونكم إلا عند ثلاث حالات: الغائط والجنابة والغسل، فإذا اغتسل أحدكم بالعراء فليستتر بثوبه أو بجرم حائط أو ببعيره»."

(سورۃ الانفطار،ج:8،ص:341، ط: دارالکتب العلمیة)

مشكاة المصابيح ميں هے :

"و عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إياكم والتعري فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط وحين يفضي الرجل إلى أهله ‌فاستحيوهم وأكرموهم» ". رواه الترمذي."

(کتاب النکاح ،باب النظر الی المخطوبة وبیان العورات: ج:2،ص:934، ط: المکتب الإسلامی)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

”وأن يقول عند غسل كل عضو: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، وأن لا يتكلم فيه بكلام الناس. كذا في المحيط. فإن دعت إلى الكلام حاجة يخاف فوتها بتركه لم يكن فيه ترك الأدب. كذا في البحر الرائق“.

(الفصل الثالث في المستحبات: ج:1، ط: 8، ط: حقانیة)

الفقہ الإسلامی وأدلتہ میں ہے:

"وأهم هذه الآداب ما يأتي:

1ً- استقبال القبلة؛ لأنها أشرف الجهات ولأنها حالة أرجى لقبول الدعاء، واعتبره الحنابلة والشافعية سنة، إذ لم يفرقوا بين السنة والأدب...3- عدم التكلم بكلام الناس، بلا ضرورة؛ لأنه يشغله عن الدعاء المأثور."

(المطلب الخامس، آداب الوضوء أو فضائله: ج:1، ص:ً 352، دار الفکر)

الدر المختار ميں هے:

"(ومن آدابه) عبر بمن لأن له آدابا أخر أوصلها في الفتح إلى نيف وعشرين وأوصلتها في الخزائن إلى نيف وستين٫٫٫(وعدم الاستعانة بغيره) إلا لعذر. وأما استعانته - عليه الصلاة والسلام - بالمغيرة فلتعليم الجواز (و) عدم (التكلم بكلام الناس) إلا لحاجة تفوته".

(سنن الوضوء : ج:1، ص:126، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144402100465

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں