بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

وضوء کے بغیر ذکر کرنے کا حکم


سوال

رات کو یا صبح یا دوپہر میں  کبھی جب بندہ نیند یا تھکاوٹ کی بناء پر لیٹ جائے،اور کمرے میں والد وغیرہ بھی لیٹے ہوئے ہوں،اور بندہ کی ریح خارج ہوتی رہتی ہے،تو کیا ایسی صورت میں بندہ ذکر اذکار کرسکتا ہے ؟اگر اسی حالت میں  بندہ ذکر اذکار یا درود شریف وغیرہ پڑھے تو کیا گناہ ملے گا؟

جواب

واضح رہے کہ وضوء کے بغیر بھی ذکر اذکار کرنا اور درود شریف پڑھنا جائز ہے،شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح)."

(كتاب الطهارة، باب الحيض ،ج: 1، ص: 293، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144504100503

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں