بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ورثاء میں ماں شریک اور باپ شریک بھائی بہن دونوں ہوں تو وارث کون ہوگا


سوال

 ایک شخص کی جائیداد  کا وارث، نہ اس کی بیوی ہے اور نہ اولاد ہے، غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اور اس کے ماں شریک بہن بھائی بھی ہیں اور باپ شریک بہن بھائی بھی ہیں، اب اس کی وفات کے بعد وراثت کیا صرف ماں شریک بہن بھائیوں کو ملے گی؟ یا باپ شریک بہن بھائیوں کو بھی ملے گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں ماں شریک اور باپ شریک بھائی بہن سب وارث ہوں گے ،ماں شریک بھائی بہن اگر ایک ہو تو  کل جائیداد کا چھٹا   حصہ اور ایک سے زائد ہوں تو کل جائیداد کا   ایک تہائی حصہ ملےگا ،اس کے بعد بقیہ جائیداد باپ شریک بھائی بہنوں کو ملےگی ۔جس کا طریقہ ورثاء کی تفصیل بتا کر معلوم کیا جاسکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) السدس (للواحد من ولد الأم والثلث لاثنين فصاعدا من ولد الأم) ذكورهم كإناثهم ."

 (كتاب الفرائض ،رد المحتار6/ 772ط:سعید)

وفيه أيضا:

"(يحوز العصبة بنفسه وهو كل ذكر) فالأنثى لا تكون عصبة بنفسها بل بغيرها أو مع غيرها (لم يدخل في نسبته إلى الميت أنثى) فإن دخلت لم يكن عصبة كولد الأم فإنه ذو فرض وكأبي الأم وابن البنت فإنهما من ذوي الأرحام (ما أبقت الفرائض) أي جنسها (وعند الانفراد يحوز جميع المال) بجهة واحدة. ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ...الخ"

 (كتاب الفرائض ,6/ 773ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144405101561

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں