بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

وجوب زکات اور افضل مصرف


سوال

زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ اور کس کو دینا زیادہ افضل ہے؟ نیز کن کن چیزوں پر دینی ہے؟

جواب

جوشخص مسلمان، عاقل و بالغ ،آزاد ہو، نصاب کے برابر مال (نقدی، سونا، چاندی یا مالِ تجارت) رکھتا ہو، ما ل ضروریاتِ اصلیہ سے زائد ہو اور چاند کے اعتبار سے سال مکمل ہونے پر بھی اس کے پاس نصاب یا اس سے زیادہ مال موجود ہو تو اس پر زکات ادا کرنا فرض ہے۔

صاحبِ نصاب ہونے پر اپنے اموال میں سے چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) زکات میں نکالنا واجب ہے۔

نصاب سے مراد یہ ہے کہ اگر اس کی ملکیت میں صرف سونا ہو (اس کے علاوہ ضرورت سے زائد کچھ بھی نہ ہو، نہ چاندی، نہ نقدی نہ مالِ تجارت) تو ساڑھے سات تولہ سونا ہو، یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہو  یا اس (ساڑھے باون تولہ چاندی) کی مالیت کے برابرنقدی ہو یا اتنی قیمت کا سامانِ تجارت ہو یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو۔

ضرورتِ اصلیہ سے مراد رہائش کا مکان، استعمال کی سواری، لباس، خوراک اور گھریلو استعمال کی دیگر چیزیں، (خواہ کتنی قیمتی کیوں نہ ہوں) مثلاً: لیپ ٹاپ، موبائل  وغیرہ، ماہانہ اخراجات اور بل وغیرہ۔ 

جس شخص پر زکات واجب ہو، وہ کسی مستحقِ زکات شخص کو  زکات کی رقم  یا کوئی جنس یا سامان خرید کر اسے مالک بناکر دے دے تو زکات ادا ہوجائے گی۔ مستحق سے مراد وہ مسلمان ہے جو ہاشمی (سید، عباسی وغیرہ) نہ ہو، اور اس کی ملکیت میں ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود نہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچتی ہو۔

زکات ،صدقات وخیرات کا افضل اور بہتر مصرف  موقع محل اور ضرورت وحاجت کے اعتبار سےمختلف ہوسکتے ہیں، جس وقت جہاں زیادہ ضرورت ہو وہاں ان صدقات کے خرچ کا ثواب زیادہ ہوگا، مثلاً اگر کہیں کوئی رشتہ دار زیادہ ضرورت مند ہے تو عام فقراء کی بہ نسبت ان کو  صدقہ دینے میں صدقہ کے ثواب کے ساتھ صلہ رحمی کا ثواب بھی ہوگا، یا کوئی سفید پوش، نیک صالح شخص غریب ہے،  اس کو صدقہ دینے کا ثواب زیادہ ہوگا، اور اگر کہیں اِحیاءِ دین  کے لیے  مدارس کے طلبہ زیادہ محتاج ہیں تو  ان کو صدقہ کرنا زیادہ افضل ہوگا، اسی طرح کہیں شرعی جہاد جاری ہو اور وہاں انفاق کی ضرورت ہو تو  جہاد میں مصروف مجاہدین کو دینا زیادہ افضل ہوگا،  غرض یہ ہے کہ موقع محل اور ضرورت کے اعتبار سے دیکھ لیا جائے کہ کہاں ضرورت زیادہ ہے!  اس کو مدنظر رکھتے ہوئے صدقات وہاں صرف کیے جائیں۔

زکات صرف اس مال پر فرض ہے جو عادۃً بڑھتاہو، (خواہ حقیقتاً بڑھے یا حکماً)  جیسے مالِ تجارت یا مویشی یا سونا چاندی اور نقدی،  سونا، چاندی  اور نقدی کو اسلام نے تجارت کا ذریعہ قرار دیا ہے ؛ اس لیے سونا چاندی  پر بہرصورت زکات لازم ہے، چاہے  کوئی زیور بنا کر رکھے یا ٹکڑے بنا کر رکھے، ہر حال میں وہ بڑھنے والا مال ہے؛ اس لیے اگر وہ نصاب کے برابر ہو  اور اس پر سال بھی گزر جائے تو اس پر زکات  فرض ہے، ان چار قسموں (سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت) کے اموال کے علاوہ  ذاتی مکان، دکان ، گاڑی، برتن ، فرنیچر اور دوسرے گھریلو سامان ، ملوں  اور کارخانوں کی مشینری ، اور جواہرات وغیرہ  اگر تجارت کے لیے  نہیں ہیں تو ان پر زکات  فرض نہیں ہے، ہاں اگر ان میں سے کوئی  ایک بھی چیز  فروخت کرنے کی نیت سے خریدی اور اس کی قیمت نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے  تو سال گزرنے پر  اس کی  زکات  فرض ہوگی۔

ترمذی وابوداؤد شریف کی روایت میں ہے :

"عن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « قد عفوت عن الخيل والرقيق فهاتوا صدقة الرقة من كل أربعين درهماً درهم، وليس فى تسعين ومائة شىء فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم".

ترجمہ:" حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑوں اور لونڈی و غلام کی زکات معاف کر دی (یعنی یہ تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان میں زکات نہیں )پس چاندی کی زکات دو ہر چالیس درہم پر ایک درہم (لیکن خیال رہے )ایک سو نوے درہم میں زکات نہیں ہے، جب دو سو درہم پورے ہوں گے تب زکات واجب ہوگی اور زکات میں پانچ درہم دینے ہوں گے ۔"

(سنن الترمذی،باب زکاۃ الذھب والفضۃ،ج:3،ص: 16بیروت-سنن ابی داؤد،باب فی زکوۃ السائمۃ،ج:2، ص:11)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال الرحمتي: والحق التفصيل، فما كانت الحاجة فيه أكثر والمنفعة فيه أشمل فهو الأفضل كما ورد: «حجة أفضل من عشر غزوات». وورد عكسه فيحمل على ما كان أنفع، فإذا كان أشجع وأنفع في الحرب فجهاده أفضل من حجه، أو بالعكس فحجه أفضل، وكذا بناء الرباط إن كان محتاجاً إليه كان أفضل من الصدقة وحج النفل وإذا كان الفقير مضطراً أو من أهل الصلاح أو من آل بيت النبي صلى الله عليه وسلم فقد يكون إكرامه أفضل من حجات وعمر وبناء ربط. كما حكى في المسامرات عن رجل أراد الحج فحمل ألف دينار يتأهب بها، فجاءته امرأة في الطريق وقالت له: إني من آل بيت النبي صلى الله عليه وسلم وبي ضرورة فأفرغ لها ما معه، فلما رجع حجاج بلده صار كلما لقي رجلاً منهم يقول له: تقبل الله منك، فتعجب من قولهم، فرأى النبي صلى الله عليه وسلم في نومه وقال له: تعجبت من قولهم: تقبل الله منك؟ قال: نعم يا رسول الله؛ قال: إن الله خلق ملكاً على صورتك حج عنك؛ وهو يحج عنك إلى يوم القيامة بإكرامك لامرأة مضطرة من آل بيتي؛ فانظر إلى هذا الإكرام الذي ناله لم ينله بحجات ولا ببناء ربط."

(کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، فروع فی الحج، ج: 2، ص: 621، ط: سعید)

یہ نصاب سونا چاندی، نقد رقم اور اموال تجارت کے بارے میں ہے ،البتہ جانوروں کا نصاب مختلف ہے جس کی تفصیل احادیث وفقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100051

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں