بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

اونٹ میں کتنے حصے ہوتے ہیں اور اس کے قربانی میں کتنے افراد شریک ہوسکتے ہیں؟


سوال

اونٹ میں کتنے حصے ہوتے ہیں؟ میں نے سنا ہے کہ 14حصے ہوتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ  گائے ،بیل اور بھینس کی طرح اونٹ میں بھی سات حصے ہوتے ہیں، اور سات افراد شریک ہوکر اس میں قربانی کرسکتے ہیں، سات سے زیادہ افراد کا شریک ہونا شرعا جائز نہیں،  حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اونٹ سات حصہ داروں  کی طرف سے کافی ہے، اور گائے بھی سات کی طرف سے کافی ہے"اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ" ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹ اور گائے، سات سات افراد کی طرف سے ذبح کیے"۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"والصحيح قول العامة؛ لما روي عن رسول الله  صلى الله عليه وسلم: «البدنة تجزي عن سبعة والبقرة تجزي عن سبعة»، وعن جابر - رضي الله عنه - قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة من غير فصل بين أهل بيت وبيتين»؛ ولأن القياس يأبى جوازها عن أكثر من واحد؛ لما ذكرنا أن القربة في الذبح وأنه فعل واحد لايتجزأ؛ لكنا تركنا القياس بالخبر المقتضي للجواز عن سبعة مطلقًا فيعمل بالقياس فيما وراءه؛ لأن البقرة بمنزلة سبع شياه، ثم جازت التضحية بسبع شياه عن سبعة سواء كانوا من أهل بيت أو بيتين فكذا البقرة،ومنهم من فصل بين البعير والبقرة، فقال: البقرة لاتجوز عن أكثر من سبعة، فأما البعير فإنه يجوز عن عشرة، ورووا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «البدنة تجزي عن عشرة»، ونوع من القياس يؤيده؛ وهو أن الإبل أكثر قيمة من البقر؛ ولهذا فضلت الإبل على البقر في باب الزكاة والديات فتفضل في الأضحية أيضًا، (ولنا) أن الأخبار إذا اختلفت في الظاهر يجب الأخذ بالاحتياط وذلك فيما قلنا؛ لأن جوازه عن سبعة ثابت بالاتفاق وفي الزيادة اختلاف؛ فكان الأخذ بالمتفق عليه أخذًا بالمتيقن، وأما ما ذكروا من القياس فقد ذكرنا أن الاشتراك في هذا الباب معدول به عن القياس، واستعمال القياس فيما هو معدول به عن القياس ليس من الفقه."

[كتاب التضحية، ج:5، ص:70، ط: دار الكتب العلمية.]

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144311102176

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں