بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

وہ مغربی ممالک جن میں جانورذبح کرنے پرپابندی ہو وہاں کے مسلم باشندگان کے لیے جانور ذبح کرنے کا حکم


سوال

 کینیڈا میں مرغی ،بکرے  اور  دیگر جانوروں کو خود ذبح کرنے پر حکومت کی طرف سے پابندی ہے،یہ حکم صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بل کہ سب کےلیے ہے،لیکن برما،انڈیا،پاکستان ،بنگلہ دیش کے مسلمان بھائی ، کینیڈا میں قربانی کے دن چھپ کر جنگل وغیرہ میں جاکر قربانی کا جانور  ذبح کرتے ہیں ، کچھ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے  حکمت ومصلحت  کے تحت لگائی جانے والی پابندی کی وجہ سے چھپ کر قربانی کے جانورکو ذبح کرنا بھی ناجائز  ہے ۔ہمیں یہ جاننا ہے کہ حکومتی  پابندی کے باوجود   قربانی کے دن  جانور ذبح کرنا کیا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ مسلمان کسی بھی ملک کا باشندہ ہو جائز امور میں حکومتِ وقت کی اطاعت  اس پر لازم ہے اور ناجائز امور میں اطاعت  لازم نہیں ، بل کہ حتی الوسع ان  غیر شرعی امور کی اصلاح  لازم ہے،البتہ یہ اصلاح ہر انسان  کی قدرت و حیثیت تک محدود ہے یعنی ہر انسان اپنی قدرت و استطاعت کے مطابق ان  غیر شرعی امور کی اصلاح کا فریضہ سر انجام دے، مذكوره تمهيد  كے بعد    اگر کینیڈین  حکومت کی جانب سے   ایامِ بقر عید میں جانوروں کے ذبح پر مطلقاً پابندی ہے یعنی نہ گھر میں ذبح کرنے کی اجاز ت ہے اور نہ ہی کسی مخصوص جگہ  مثلاً:مذبح خانوں وغیرہ پر ،تو  شرعا مذکورہ پابندی درست نہیں ہے،اگر وہاں موجود  مسلمانوں کو اتنی  قدرت و استطاعت  ہے کہ مذکورہ قانون میں مناسب اصلاح کر کےاس کو شریعت کے دائرے میں لاسکیں تو ان پر لازم ہے کہ   اس قانون میں اصلاح کی کوشش کریں اور  حکومت سے مذکورہ قانون میں شرعی اصلاح و ترمیم کی درخواست کریں ،بصورتِ دیگر کسی دوسرے ملک میں( جہاں جانور ذبح کرنے پر پابندی نہ ہو) کسی  بااعتماد شخص کو وکیل بنا کر اپنی جانب سے قربانی کروالیں ،حکومتی پابندی کی وجہ سے قربانی کسی صورت ساقط نہیں ہوگی۔

اور اگر حکومت کی جانب سے صرف مخصوص مقامات اور مذبح خانوں میں ہی  جانور ذبح کرنے کی اجازت ہے (جیسا کہ  ہماری معلومات کے مطابق حکومت کی جانب سے مذبح خانوں میں بظاہر اسلامی  طریقے پر جانور  ذبح کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے)اور ان کے علاوہ بقیہ جگہوں پر  مصلحتاًجانور ذبح کرنے پر  قانوناً پابندی ہے ،تو ایسی صورت میں  ان مخصوص مقامات میں ہی شرعی طریقے کے مطابق جانور ذبح کرلینے چاہئیں ،بلاوجہ ممنوعہ جگہوں پر جانور ذبح کرکے اپنے  لیے مشکلات کے اسباب پیدا  نہ کرنے چاہئیں ، تاہم    اگر  وہاں کے باشندے خفیہ طریقے سے  قربانی  کرلیں تو قربانی بہر حال  درست ہوجاۓ گی۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وأكره ما لم يؤمر بمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة».

وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا طاعة في معصية إنما الطاعة في المعروف»."

(كتاب الإمارة والقضاء،الفصل الأول،329/2،ط: قدیمي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"إلا أن يأمرهم بمعصية فلا تجوز طاعتهم إياه فيها؛ لقوله - عليه الصلاة والسلام -: «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق» ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا، فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية."

(كتاب السير،فصل في بيان ما يندب إليه الإمام عند بعث الجيش أو السرية إلى الجهاد، 99،100/7،ط:دار الكتب العلمية)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"وإذا أخطأ الحاكم خطأ غير أساسي لا يمس أصول الشريعة وجب على الرعية تقديم النصح له باللين والحكمة والموعظة الحسنة.

"لا تجب الطاعة عند ظهور معصية تتنافى مع تعاليم الإسلام القطعية الثابتة، لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا طاعة لأحد في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف» «لا طاعة لمن لم يطع الله»."

(القسم الخامس: الفقه العام،‌‌ الباب السادس: نظام الحكم في الإسلام،‌‌ الفصل الثاني: سلطة التنفيذ العليا ـ الإمامة،‌‌ المبحث السابع ـ حقوق الإمام الحاكم، حق الطاعة، ج:8، ص:6191،92، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501100327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں