بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

وہ احادیث جن میں عورتوں کو نقاب لگانے سے منع کیا گیا ہے


سوال

مجھے وہ آیات اور احادیث بھیج کر دیجیئے جس میں عورتوں کو حالت احرام میں نقاب لگانے سے منع فرمایا ہے۔

جواب

قرآن کریم میں کوئی ایسی آیت نہیں ہے جس میں عورت کو حالت احرام میں نقاب لگانے سے منع کیا گیا ہو، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج یا عمرہ کیلئے احرام باندھنے والی خاتون کو  نقاب لگانے سے منع فرمایا اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو چہرہ کھولنے کا  حکم دیا ہو، بلکہ نامحرم سے اس طرح پردہ کرے کہ کپڑا یا نقاب چہرہ کے ساتھ  لگاہوا نہ ہو، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں خواتین احرام کی حالت میں بھی  اجنبی مردوں کے پاس سے گزرتے وقت  اپنے  چہروں کو نقاب  کے بغیر کسی اور کپڑے سے  ڈھانپ لیتی تھیں۔

اور یہ حکم بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ نے احرام والے مردوں کو  قمیص اور شلوار  پہننے سے روک دیا  ،  اب اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ احرام والا آدمی ننگا رہے، بلکہ تہہ بند اور چادر سے اپنے جسم کو ڈھانپ کر رکھے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمات فإذا جاوزوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها فإذا جاوزونا كشفناه."

ترجمہ:" اور ام المؤمنین حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہم (سفر کے دوران) حالت احرام میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے (اور احرام کی وجہ سے ہارے منہ کھلے ہوئے تھے) اور ہمارے قریب سے قافلے گزرتے رہے، چنانچہ جب کوئی قافلہ ہمارے سامنے سے گزرتا تو ہم میں سے ہر عورت ( پردہ کی غرض سے ) اپنی چادر اپنے سر پر تان کر اپنے منہ پر (اس طرح) ڈال لیتی تھی کہ وہ چادر اس کے منہ کو نہ لگتی) اور جب قافلہ ہمارے سامنے سے گزر جا تا تو ہم اپنا منہ کھول دیتے تھے۔"(مظاہر حق)

(كتاب المناسك، باب مايحتجبه المحرم، الفصل الثاني، ج:2، ص:823، ط:المكتب الاسلامي بيروت)

وفیہ ایضاً:

"عن عبد الله بن عمر: أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يلبس من الثياب؟ فقال: «لا تلبسوا القمص ولا العمائم ۔۔۔ متفق عليه وزاد البخاري في رواية: «ولا تنتقب المرأة المحرمة."

ترجمہ:"اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ محرم کپڑوں میں سے کیا چیزیں پہن سکتا ہے (اور کیا چیزیں نہیں پہن سکتا؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ "نہ تو قیص وکر تہ پہنو، نہ عمامہ باندھو،  ( بخاری ومسلم ) بخاری نے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ ”محرم عورت نقاب نہ ڈالے."(مظاہر حق)

(كتاب المناسك، باب مايحتجبه المحرم، الفصل الاول، ج:2، ص:821، ط:المكتب الاسلامي بيروت)

سنن الدار قطنی میں ہے:

"عن ابن عمر ، أن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال: «‌إحرام ‌المرأة في وجهها وإحرام الرجل في رأسه."

ترجمہ : "حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:عورت احرام میں اپنے چہرے کو کھلا رکھے گی اور مرد احرام میں اپنے سر کو کھلا رکھے گا"۔(فتوحات جہانگیری شرح سنن دارقطنی)

(كتاب الحج، باب المواقيت، ج:3، ص:363، ط:مؤسسة الرسالة، بيروت - لبنان)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144311102170

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں