بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

عشاء کی نماز کی دو رکعت سنت مؤکدہ کے بعد وتر سے پہلے کی دو نفل اور وتر کے بعد کی دو نفل بیٹھ کر پڑھنے کا حکم


سوال

1- اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ عشاء کی دو رکعت سنت مؤکدہ بعدیہ کے بعد اور تراویح سے پہلے دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے ہیں؟

2- اسی طرح وتر کے بعد بھی یہی کام کرتے ہیں؟

3- اسی طرح غیر رمضان میں بھی؟ تو اس کا ثبوت کہیں سے ہے؟

جواب

عشاء کی فرض نماز کے بعد وتر سے پہلے دورکعت نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے، جسے کھڑے ہوکر پڑھنا چاہیے، ان دو رکعت سنتِ مؤکدہ کے بعد وتر سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا بعض روایات میں ذکر ہے، یہ دو رکعت بھی کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے، البتہ انہیں بیٹھ کر بھی پڑھ سکتے ہیں، تاہم صحت مند آدمی کے لیے نوافل بیٹھ کر پڑھنے کی صورت میں کھڑے ہوکر پڑھنے کے مقابلے میں آدھا ثواب ملتاہے۔

نبی اکرم ﷺ سے وتر کے بعد  کی دو رکعت نفل بیٹھ کر پڑھنا ثابت ہے؛ اس لیے یہ سوال ہوتاہے کہ امتی کے لیے یہ نفل کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے یا بیٹھ کر؟ اس کا جواب یہ ہے کہ  علماء نے اسے بھی کھڑے ہو کر پڑھنا افضل قرار دیا ہے،  اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کو کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کے مقابلے میں آدھا اجر ملتاہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی تھی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے تو فرمایا ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنا کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کے مقابلے میں نصف اجر رکھتاہے، اور آپ ﷺ خود بیٹھ کر نماز ادا فرمارہے ہیں، (جب کہ آپ تو عبادت اور ثواب کی بہت زیادہ رغبت رکھتے ہیں)؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں سے عام آدمی کی طرح نہیں ہوں۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنے میں بھی پورا اجر ہے۔

واضح رہے کہ بیٹھ کر اور کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کا اختیار نوافل میں ہے، فرض اور واجب نماز میں جو شخص قیام پر قدرت رکھتا ہو اس کے لیے قیام فرض ہے۔

مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کے عشاء کی نماز کی دو رکعت سنت مؤکدہ کے بعد وتر سے پہلے کی دو نفل اور وتر کے بعد کی دو نفل بیٹھ کر پڑھنا بھی جائز ہے چاہے رمضان ہو یا غیر رمضان، البتہ ان نوافل کو بھی بیٹھ کر پڑھنے سے آدھا ثواب ملے گا، اس لیے بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے کے بجائے کھڑے ہوکر پڑھنا زیادہ اولیٰ اور اجر کا باعث ہے۔

فتاوی رحیمیہ(۵/  ۲۲۴) میں ہے: 

"سوال:وتر کے بعد کی دو رکعت نفل کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے یا بیٹھ کر؟ حضور اکرمﷺ کا عمل کیا تھا؟۔۔۔۔الخ

جواب: وتر کے بعد کی دو رکعت نفل کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے، آں حضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ بیٹھ کر نفل پڑھنے والے کے لیے نصف ثواب ہے اور آں حضرت ﷺ سے دونوں طریقے ثابت ہیں، لیکن آں حضرت ﷺ کو بیٹھ کر پڑھنے میں پورا اجروثواب ملتا تھا، یہ آپ ﷺ کی خصوصیت تھی۔۔۔ البتہ بعض بزرگوں سے منقول ہے کہ اگر کوئی متبعِ سنت وتر کے بعد کی دو رکعت گاہے گاہے اس نیت سے بیٹھ کر پڑھے کہ آں حضرت ﷺ بیٹھ کر ادا فرماتے تھے میں بھی اتباعاً بیٹھ کر پڑھوں تو عجب نہیں کہ اس کو اس کی نیت کے مطابق پورا اجر و ثواب ملے ۔۔۔ لیکن از روئے حدیث تو کھڑے ہوکر پڑھنے والا پورے ثواب کا اور بیٹھ کر پڑھنے والا نصف ثواب کا حق دار ہے۔فقط واللہ اعلم بالصواب"(کتاب الصلاۃ، باب النوافل والسنن،ط:دارالاشاعت کراچی)

الدر المختار و حاشیته لابن عابدین (2 /36, 37):

"(ويتنفل مع قدرته على القيام قاعدًا) لا مضطجعًا إلا بعذر (ابتداء و) كذا (بناء) بناء الشروع بلا كراهة في الأصح كعكسه، بحر، وفيه أجر غير النبي صلى الله عليه وسلم على النصف إلا بعذر. 
وفي الحاشیة:

"(قوله:أجر غير النبي) أما النبي فيه خصائصه أن نافلته قاعدًا مع القدرة على القيام كنافلته قائمًا ففي صحيح مسلم عن عبد الله بن عمرو قلت: حدثت يا رسول الله أنك قلت: صلاة الرجل قاعدًا على نصف الصلاة وأنت تصلي قاعدًا؟ قال: أجل ولكني لست كأحد منكم، بحر ملخصًّا، أي لأنه تشريع لبيان الجواز وهو واجب عليه، (قوله: على النصف إلا بعذر) أما مع العذر فلاينقص ثواب عن ثوابه قائمًا؛ لحديث البخاري في الجهاد: إذا مرض العبد أو سافر كتب له مثل ما كان يعمل مقيمًا صحيحًا، فتح، وحكى في النهاية الإجماع عليه وتعقبه في البحر بحكاية النووي عن بعضهم أنه على النصف مع العذر أيضًا، ثم نقل عن المجتبى أن إيماء العاجز أفضل من صلاة القائم؛ لأنه جهد المقل، قال: ولايخفى ما فيه بل الظاهر المساواة كما في النهاية ا هـ  لكن ذكر القهستاني مافي المجتبى ثم قال: لكن في الكشف أنه قال الشيخ أبو معين النسفي: جميع عبادات أصحاب الأعذار كالمومي وغيره تقوم مقام العبادات الكاملة في حق إزالة المأثم لا في حق إحراز الفضيلة ا هـ  أقول: وهو موافق لقول البعض المار ويؤيده حديث البخاري من صلى قائمًا فهو أفضل، ومن صلى قاعدًا فله نصف أجر القائم، ومن صلى نائمًا فله نصف أجر القاعد، فإن عموم من يدخل فيه العاجز ولأن الصلاة نائمًا لاتصح عندنا بلا عذر، وقد جعل له نصف أجر القاعد، وفي هذا المقام زيادة كلام يطلب ما علقناه على البحر". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200423

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے