بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

وتر کی قضا فجر کی نماز سے پہلے


سوال

میں وتر تہجد میں ادا کرتا ہوں،  لیکن کبھی کبھی ایسا ہوجا تا ہے کہ نیند کے  غلبہ کی وجہ سے تہجد قضا  ہوجاتی ہے، تو ایسی صورت وتر بھی قضا  ہوجاتی ہے۔ تو اب وتر فجر کی سنتیں پڑھنے سے پہلے ادا کروں یا طلوع آفتاب کے بعد ؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ  جب تہجد میں اٹھنے کا یقین نہ ہو تو وتر کی نماز عشاء کے ساتھ ہی پڑھ لی جائے، اسے  تہجد تک مؤخر نہ کیا جائے، تہجد میں آنکھ کھل جائے تو تہجد کی نماز پڑھ لی جائے، باقی کسی دن وتر چھوٹ جائے تو فجر کی سنتوں سے پہلے یا بعد میں، دونوں وقت قضا کی جاسکتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 375):

"(لا) يكره (قضاء فائتة و) لو وترًا أو (سجدة تلاوة وصلاة جنازة وكذا) الحكم من كراهة نفل وواجب لغيره لا فرض و واجب لعينه (بعد طلوع فجر سوى سنته) لشغل الوقت به، (قوله: أو سجدة تلاوة) لوجوبها بإيجابه تعالى لا بفعل العبد كما علمته فلم تكن في معنى النفل."

  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200762

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں