بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

وراثت میں مرد وعورت میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کا حکم


سوال

ماں کا ترکہ جو کہ سونا،چاندی،نقد رقم اور شیئرز تھے،ہم آٹھ بہن بھائی ہیں 6بہنیں اور دوبھائی،والدہ نے کوئی وصیت نہیں لکھی،بہنوں نے سونا اور نقد رقم آٹھ بہن بھائیوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کردیا،کیا شریعت کے حساب سے یہ تقسیم درست ہے؟بھائی وغیرہ تقسیم پر راضی نہیں۔

2:شیئرز کے بارے میں والدہ مختلف اوقات میں الگ الگ باتیں کہا کرتی تھیں،کبھی کہا کرتی تھیں کہ شیئرز میری بیٹوں کے ہیں ،کبھی کہتی ہر بیٹی کو ایک ہزار شیئرز دےدینا اور باقی شیئرز بیٹوں کے(کمپنی نمبر شیئرز 11000،کمپنی نمبر 2شیئرز 10,000)بہنیں چاہتی ہیں کہ یہ شیئرز برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوں۔

وضاحت:شوہر اور والدین کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے۔

جواب

وراثت میں بیٹے کا حصہ بیٹی کی بنسبت دگنا  ہوتاہےیعنی جتنا حصہ دو بیٹیوں کو ملے گا اتنا  ایک بیٹے کو ملے گا،لہذا مذکورہ صورت میں والدہ کی وراثت کی تقسیم جس میں سونا چاندی وغیرہ اشیاء تھیں،اگر اس کو برابری کی بنیاد پر تقسیم کیا گیااس پر سب متفق بھی نہیں تھےلہذا یہ تقسیم درست نہیں۔

مرحومہ کی وراثت تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد،اگر اس کےذ مہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد،اگر اس نے کوئی جائزوصیت کررکھی ہو اسے ایک تہائی میں نافذ کرنے کے بعد،باقی ترکہ منقولہ وغیرمنقولہ کو 10حصوں میں تقسیم کرکے  ہر ایک بیٹے کو 2حصے،بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 1حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت(والدہ)۔۔۔10

بیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
2211111

1

یعنی فیصد کے اعتبار سے ہر ایک بیٹے کو 20.00فیصد،بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 10.00فیصد ملے گا۔

(2)نیز شیئرز میں بھی مذکورہ طریقہ کے مطابق  کہ بیٹوں  کو بیٹیوں کی بنسبت  دگنا   حصہ ملے گا۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]

ترجمہ:اللہ تعالی تم کو حکم دیتا ہےتمہاری اولاد کے باب میں لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر۔(بیان القران)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144403101839

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں