بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ہول سیل والوں کے لیے قیمت مقرر کر دینا


سوال

 ہم اپنا سینیٹری کا سامان بیچتے ہیں ہمارے دو طرح کے کسٹمر ہیں: ایک ہول سیل اور دوسرے ریٹیلر۔ ہول سیل کو لسٹ ریٹ پے 35 فیصد ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں اور ریٹیلر کو 30 فیصد ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں۔اور ساتھ ہی ہم ہول سیل کسٹمر کو پابند کرتے ہیں کہ وہ بھی آگے کسٹمر کو 30فیصد سے زیادہ ڈسکاؤنٹ نہیں دے گا، پوچھنا یہ تھا کہ کیا ہول سیلر کو اس طرح پابند کرنا جائز ہے؟

جواب

ہول سیل والے جب آپ سے مال خرید لیں گے تو وہ اس مال کے مالک بن جائیں گے،اور ہر شخص اپنا مال اپنی مرضی کی قیمت پر بیچنے کا حق رکھتا ہے۔لہذا آپ کے لیے ہول سیل والوں کو آپ کی مرضی کے ریٹ پر بیچنے کے لیے مجبور کرنا شرعاً درست نہیں ہے،اور نہ وہ اس ریٹ پر بیچنے کے پابند ہوں گے۔

ہدایہ میں ہے:

’’ویجوز للبائع أن یزید للمشتري في المبیع، ویجوز أن یحط عن الثمن‘‘... الخ (ہدایۃ، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ)

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بار صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ بازار میں اشیاء کے نرخ آپ مقرر کردیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا۔

حدیث میں ہے: 

عن أنس قال: غلا السعر علی عهد النبي صلی الله علیه  وسلم، فقالوا: یا رسول الله سعر لنا! فقال النبي صلی الله علیه وسلم: إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق، وإني لأرجو أن ألقی ربي ولیس أحد منکم یطلبني بمظلمة بدم ولامال‘‘. رواه الترمذي وأبوداؤد وابن ماجه والدارمي‘‘. (مشکاة المصابیح، باب الاحتکار، ص:۲۵۱)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نرخ گراں ہوگئے، تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے لیے قمیتیں مقرر کردیجیے! تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالی ٰ ہی قیمتیں مقرر کرنے والا، (روزی کے دروازے اور اسباب) بند کرنے والا، (روزی کے دروازے) کھولنے والا اور روزی دینے والا ہے، اور میں چاہتاہوں کہ میں اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کوئی جان یا مال کی زیادتی کے حوالے سے مجھ سے مطالبہ نہ کرے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201811

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں