بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

والدہ کے مکان میں بیٹیوں کے ساتھ ماموں اور خالہ بھی شریک ہیں


سوال

میری والدہ نے اپنی ذاتی کمائی سے ایک مکان بنایا تھا ،اب ان کا انتقال ہو گیا ہے اور ان سے پہلے ہی میرے والد اور میرے نانا ،نانی کا بھی انتقال ہو گیا تھا ۔ہم چار بہنیں ہیں اور میرے ماموں ، خالہ اور چچا بھی ہیں ۔کیا اب اس مکان پر صرف ہمارا حق ہے ؟یا ہمارے چاچا ،ماموں اور خالہ کا بھی کوئی حق ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ مذکورہ مکان اگر آپ کی والدہ نے اپنی ذاتی کمائی سے بنایا تھا، جیساکہ آپ نے سوال میں ذکر کیاہے، تو یہ مکان آپ کی والدہ کی ملکیت کہلائے گا اور ان کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ شمار ہوگا۔اگر آپ کی والدہ کے انتقال کے وقت آپ کا کوئی بھائی حیات نہیں تھا تو والدہ مرحومہ کے اس متروکہ  مکان میں آپ  چاروں بیٹیاں، نیز  والدہ مرحومہ کے  بھائی (یعنی آپ کے ماموں) اور ان  کی بہنیں (یعنی آپ کی خالائیں)بھی حصہ دار ہیں، البتہ آپ کے  چچا کا اس مکان میں کوئی حق نہیں ہے۔

اگر وراثت کی تقسیم  (یعنی ہر ایک حصہ دار کاحصہ )مطلوب ہوتو والدہ مرحومہ کے بھائیوں (یعنی آپ کے  ماموں) اور ان کی بہنوں (یعنی آپ کی خالاؤں) کی تعداد لکھ کر دوبارہ دریافت کرلیں!

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144208200591

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں