بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

ویب سائٹس پر اکاؤنٹ بناکر خریداری کرنے پر ملنے والی رعایت کاحکم


سوال

کچھ آن لائن ویب سائٹس پر نئے اکاؤنٹ سے خریداری کرنے پر رعایت ملتی ہے، کیا مختلف نئے اکاؤنٹس بنا کر رعایتی قیمت پر خریداری کرنا جائز ہے؟

جواب

آن لائن ویب سائٹس پر  نئے اکاؤنٹ بناکر اس سے خریداری کرنے کی صورت میں حاصل ہونےوالے ڈسکاؤنٹ  (رعایت ) کے جائز اور ناجائز ہونے میں درج ذیل تفصیل ہے:

1۔ آن لائن ویب سائیٹ کی  ایپ کے ذریعہ سے  ادائیگی کی صورت میں جو کچھ پیسوں کی رعایت (Discount) ملتی ہے  ، اگر یہ رعایت بینک کی طرف سے ملتی ہوتو اس صورت میں اس رعایت کا حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہوگا، کیوں کہ یہ رعایت بینک کی طرف سے  اس  کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی وجہ سے مل رہی ہے جو شرعاً قرض کے حکم میں ہے اور قرض کے عوض جو نفع حاصل ہوتا ہے وہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔

2۔ اگر یہ رعایت  اس ادارے کی جانب سے ہو جہاں سے کچھ خریدا گیاہے یاوہاں کھاناکھایاگیاہے تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان ہونے کی وجہ سے جائز ہوگا۔

3۔ اگر رعایت دونوں کی طرف سے ہو تو بینک کی طرف سے دی جانے والی رعایت درست نہ ہوگی۔

4۔ رعایت نہ تو بینک کی طرف سے ہو اور نہ ہی جس ادارے سے خریداری ہوئی ہے اس کی طرف سے ہو، بلکہ  ایپ بنانے والے ادارے کی طرف سے رعایت ہو، تو اگر اس ادارے کے تمام یا اکثر معاملات جائز ہوں اور ان کی آمدن کل یا کم از کم اکثر حلال ہو تو اس صورت میں ڈسکاؤنٹ سے مستفید ہونے کی اجازت ہوگی۔

5۔ اگر معلوم نہ ہوکہ یہ رعایت کس کی طرف سے ہے تو پھر اجتناب کرنا بہترہے۔ 

الاشباہ والنظائر میں ہے :

"‌‌‌كل ‌قرض جر نفعا حرام".

(كتاب المداينات ص: 226 ط: دارالكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط".

(كتاب الكراهية ، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات ج: 5 ص: 343 ط: دارالفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144501100570

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں