بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

وضو میں حلق تک پانی پہنچانے کا حکم


سوال

وضو میں حلق تک پانی پہنچانا فرض ہے  یا نہیں ؟

جواب

 واضح رہے کہ وضو کے فرائض چار ہیں :چہرے کا دھونا،دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا ،چوتھائی سر کا مسح کرنا ،اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا ،اس کے علاوہ وضو میں کوئی فرض نہیں ،اور کلی کرنا وضو میں سنت ہےلہذا  وضو میں حلق تک پانی پہنچانا فرض نہیں ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(الفصل الأول: في فرائض الوضوء)

قال الله تبارك وتعالى {يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم وأيديكم إلى المرافق وامسحوا برءوسكم وأرجلكم إلى الكعبين} [المائدة: 6] (وهي أربع) . الأول: غسل الوجه۔۔۔۔(والثاني غسل اليدين) والمرفقان يدخلان في الغسل عند علمائنا الثلاثة. كذا في المحيط۔۔۔۔۔۔(والثالث غسل الرجلين) ويدخل الكعبان في الغسل عند علمائنا الثلاثة والكعب هو العظم الناتئ في الساق الذي يكون فوق القدم كذا في المحيط۔۔۔۔۔۔۔(والرباع مسح الرأس) والمفروض في مسح الرأس مقدار الناصية. كذا في الهداية والمختار في مقدار الناصية ربع الرأس. كذا في الاختيار شرح المختار."

(کتاب الطہارۃ،الفصل الاول فی فرائض الوضوء،ج:1،ص:3،دارالفکر)

وفيه أيضاّ:

"(ومنها المضمضة والاستنشاق) والسنة أن يتمضمض ثلاثا أولا ثم يستنشق ثلاثا ويأخذ لكل واحد منهما ماء جديدا في كل مرة وكذا في محيط السرخسي.وحد المضمضة استيعاب الماء جميع الفم وحد الاستنشاق أن يصل الماء إلى المارن. كذا في الخلاصة."

(کتاب الطہارۃ،الفصل الثانی فی سنن الوضوء،ج:1،ص:7،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404102044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں