بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

وزیراعظم قرضہ سکیم کے تحت ملنے والے قرضہ لینے کا حکم


سوال

آج کل پرائم منسٹر کی گھر سکیم ہے، اپنے ذاتی گھر کے لیے قرضے دے رہیں، میرے پاس شوہر کا گھر ہے،  لیکن بچوں کا خرچے بہت ہے، اگر میں قرضے لے کر وہ گھر کرایہ پر  دے دوں، تو جائز ہوگا؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ   حکومت  کی طرف سے  بعنوان "وزیرِ اعظم قرضہ سکیم"  کے تحت ملنے والی رقم بطورِ قرضہ دینے کے بعد واپسی پر اضافی رقم دینی پڑتی ہے  جو کہ سود ہے؛ لہذا مذکورہ  سکیم کے تحت ملنے والا قرضہ لینا شرعاً جائز  نہیں ہے۔

سود کا لین دین شرعاً ا س قدر قبیح اور ناپسندیدہ ہے کہ اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ اعلان جنگ قرار دیاگیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ  وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ [البقرة : ۲۷۸ إلى ۲۸٠ ]

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو  زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن."

( كتاب البيوع، فصل فى القرض، مطلب کل قرض جر نفعا، ج:5، ص:166، ط: ايج ايم سعید)

مزید تفصیل کے لیے  درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

’’میرا پاکستان میرا گھر‘‘ اسکیم کے تحت گھر خریدنے کے لیے قرضہ لینے کا حکم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں