بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قیمت کا فرق ادا کرکے گھریلو پرانا سامان نئے سامان کے ساتھ تبدیل کرنا


سوال

قیمت کا فرق ادا کرکے گھریلو  پرانا سامان نئے سامان کے  ساتھ   تبدیل کرنا  شرعًا جائز ہے  یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ  مسئو میں سائل کا اپنا  پرانا  سامان   نئے سامان کے ساتھ تبدیل  کرنااور جو دونوں کی قیمتوں میں فرق ہے اس کو نقد ادا کرنا درست ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"كما جاز بيع (كرباس بقطن وغزل مطلقا) كيفما كان لاختلافهما جنسا (كبيع قطن بغزل) القطن .....(قوله كرباس) بكسر الكاف ثوب من القطن الأبيض قاموس (قوله كيفما كان) متساويا أو متفاضلا اهـ ح (قوله لاختلافهما جنسا) لأنه وإن اتحد الأصل فقد اختلفت الصفة كالحنطة والخبز، وذلك اختلاف جنس كما سيأتي."

‌‌[كتاب البيوع،مطلب في استقراض الدراهم عددا،١٨٠/٥،ط : دار الفكر]

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144503100461

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں