بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

متوفیٰ کے ورثاء بیوہ ایک بیٹی اور چچا کے لڑکوں کے درمیان میراث کی تقسیم


سوال

اگر متوفی کی ایک بیٹی اور بیوی ہو اور متوفی کے تین چچے ہوں جو متوفی سے پہلے فوت ہو چکے ہو لیکن چچوں کی اولاد ہو جس میں بیٹے بھی ہوں تو ۔متوفی کی 56 کنال زمین کی تقسیم کیسے ہو گی؟

جواب

سوال اجمالی  ہے تمام  ورثاء  كا ذكر  نہیں ہے ،لہذا تمام ورثاء (مثلا متوفی کے  والدین، بھائی ،بہن، چچاؤں کی اولاد  وغیرہ  )  کی تفصیل لکھ کر دوبارہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔

تاہم  اگر  متوفی کے واقعۃ  ًصرف یہی ورثاء ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور وارث  نہیں  (یعنی بیٹے والدین، بہن ، بھائی  نہ ہوں) تو متوفی کی بیٹی کو ترکہ کا آدھا حصہ ملے گا اور متوفی کی بیوہ کو آٹھواں ، اور بقیہ ترکہ چچاؤں کے لڑکوں  کو ملے گا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم  کے حقوقِ  متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم   پر کوئی قرض ہو اس کو ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم   نے   مذکورہ وصیت کے علاوہ کوئی جائز وصیت کی ہو اسے باقی مال کے   ایک تہائی سے  نافذ کرنے کے بعد  باقی ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو       8      حصوں میں  تقسیم کرکے مرحوم  کی بیوہ کو 1 حصہ (یعنی 7 کنال )،  اور بیٹی کو 4 حصے  (یعنی   28 کنال )اور باقی  3  حصے  ( یعنی  21 کنال ) صرف چچاؤں کے تمام  لڑکوں  کو     برابرحصہ   ملے گا ، جب کہ چچاؤں  کی لڑکیوں   کو اپنے بھائیوں کی موجودگی میں بوجہ عصبہ نہ بننے  کے  اس میں(مذکورہ جائیداد میں ) سے کچھ نہیں ملے گا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی  کا ارشاد ہے:

"{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا } سورة النساء 11{فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ}."

ترجمہ:"اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے باب میں لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصہ کے برابر اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں گو دو سے زیادہ ہوں تو ان (لڑکیوں) کو دوتہائی (ملے گا اس مال کا) جو کہ (مورث) چھوڑ مرا ہے اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کو نصف ملے گا    اور ماں باپ کے لیے یعنی دونوں میں سے ہر ایک کے لیے (میت کے) تر کہ میں سے چھٹا چھٹا حصہ ہے اگر میت کی کچھ اولاد ہو۔ اور اگر اس میت کی کچھ اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا ایک تہائی ہے اور اگر میت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہن ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملیگا ( اور باقی باپ کو ملےگا) وصیت نکال لینے کے بعد کہ میت اس کی وصیت کر جاوے یا دین کے بعد  تمہارے اصول و فروع جو ہیں تم پورے طور پر یہ نہیں جان سکتے ہو کہ ان میں کونسا شخص تم کو نفع پہنچانے میں نزدیک تر ہے۔ یہ حکم منجانب اللہ مقرر کردیا گیا بالیقین اللہ تعالیٰ بڑے علم اور حکمت والے ہیں۔  اور اگر تمہارے کچھ اولاد ہو تو ان کو تمہارے تر کہ سے آٹھواں حصہ ملے گا وصیت نکالنے کے بعد کہ تم اس کی وصیت کر جاؤ یا دین کے بعد۔" (بیان القرآن  سورۃ النساء   ، آیت نمبر     :98/2،12،11 )

فتاوی شامی میں ہے؛

"(ويستحق الإرث)...بأحد ثلاثة (برحم ونكاح) صحيح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا (وولاء)...(قوله والمستحقون للتركة عشرة أصناف) جمعها العلامة محمد بن الشحنة على هذا الترتيب في منظومته الفرضية التي شرحها شيخ مشايخنا الفقيه إبراهيم السائحاني فقال:يعطى ذوو الفروض ثم العصبه … ثم الذي جاد بعتق الرقبه...ثم الذي يعصبه كالجد … ثم ذوو الأرحام بعد الرد...ثم محمل ورا موال … ثم مزاد ثم بيت المال."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:762، ط: سعيد)

وفیہ ایضا:

"لأن الترکة في الاصطلاح ما ترکه المیت من الأموال صافیًا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال."

(کتاب الفرائض،ج:6، ص:759، ط:سعيد)

وفیہ ایضا:

 "بيانه أن شرط الإرث وجود الوارث حيا ‌عند ‌موت ‌المورث."

(كتاب الفرائض،ج:6، ص:769،  ط:سعيد)

شرح المجلۃ لسلیم رستم باز میں ہے:

"أعیان المتوفیٰ المتروکة عنه مشترکة بین الورثة علی حسب حصصهم."

(الفصل الثالث،ج:1، ص:484، رقم المادۃ: 1092، ط:رشیدیة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411102482

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں