بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

واٹس ایپ اور فیس بک پر مختلف اشیاء کی تصویریں اپلوڈ کر کے آرڈر ملنے کے بعد خرید کر یا بنواکر گاہک کو بھجوانے کا حکم


سوال

میں واٹس ایپ اور فیس بک پر کاروبار کرتا ہوں، طریقہ کار یہ ہے کہ میں بازار میں دستیاب کسی بھی چیز مثلا گھڑی، چشمہ وغیرہ کی تصویر اٹھاکر لگادیتا ہوں اور گاہک کسی چیز کی تصویر کو پسند کر کے مجھے اس چیز کا آرڈر دے دیتاہے اور پیسے ایڈوانس دے دیتا ہے، میرے پاس اس وقت وہ چیز موجود نہیں ہوتی، میں آرڈر ملنے کے بعد بازار جاکر وہ چیز خرید کر بذریعہ ٹی سی ایس گاہک کو بھیج دیتا ہوں، کیا یہ بیع جائز ہے؟

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ گاہک کسی چیز مثلا چشمے کا آرڈر دیتا ہے تو مجھے بازار جاکر باقاعدہ آرڈر پر بنوانا پڑتا ہے، اس کے لیے میں اس سے پیشگی پیسے وصول کرتا ہوں، پھر بازار جاکر اس کے نمبر والا چشمہ (عینک) بنواتا ہوں، کیا یہ معاملہ استصناع کے حکم میں ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جو لوگ آپ کی طرف سے اپلوڈ کی گئی اشیاء کی تصویریں دیکھ کر آرڈر دیتے ہیں اس کی حیثیت بیع کی نہیں ، بلکہ وعدہ بیع کی ہے، یعنی آپ کا مختلف اشیاء کی تصاویر اپلوڈ کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس کو بھی ان اشیاء میں سے کوئی چیز چاہیے ہو تو میں اسے یہ چیز اتنی قیمت پر مہیا کرسکتا ہوں، لہٰذا آرڈر ملنے یعنی وعدہ بیع ہوجانے کے بعد اگر آپ بازار سے وہ چیز خرید کر قبضہ کرنے کے بعد حسبِ معاہدہ آرڈر دینے والے شخص کو بھجوا دیں اور وہ اسے رکھ لے تو بطورِ تعاطی یہ سودا منعقد ہوجائے گا اور باقاعدہ بیع ہوجائے گی۔ لہٰذا چوں کہ ملکیت اور قبضہ سے پہلے صرف بیع کا وعدہ کیا جارہا ہے اور اصل بیع ملکیت اور قبضہ کے بعد ہورہی ہے، اس لیے یہ بیع جائز ہے، بشرطیکہ مال پر قبضہ ہونے کے بعد گاہک کو بھجوایا جائے، اگر مال خریدنے کے بعد قبضہ کیے بغیر فروخت کنندہ کے ذریعے براہِ راست خریدار کو بھجوا دیا تو یہ بیع جائز نہیں ہوگی، بلکہ فاسد ہوگی۔

۔مذکورہ طریقے میں پیسے خواہ آپ پہلے (ایڈوانس) وصول کریں یا مال بھجوانے کے بعد وصول کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں صورتیں جائز ہیں ۔

اگر آرڈر دینے والے شخص سے آپ  یہ معاہدہ کرتے ہیں کہ میں اتنی (معین) قیمت کے عوض آپ کی پسند کا چشمہ بنواکر دے دوں گا تو شرعاً یہ استصناع کا معاملہ کہلائے گا، اس طرح آرڈر پر مال بنواکر دینا جائز ہے۔ ایسی صورت میں اگر آپ نے گاہک کے آرڈر کے مطابق چیز (مثلا چشمہ)بنوایا ہو تو گاہک کو واپس کرنے  کا اختیار نہیں ہوگا،بلکہ مال لینا لازم ہوگا ،لیکن اگر آپ نے مال گاہک کے آڈر کے مطابق  نہیں بنوایا تو گاہک کو واپس کرنے کا اختیار  ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما ركنه فنوعان أحدهما الإيجاب والقبول والثاني التعاطي وهو الأخذ والإعطاء كذا في محيط السرخسي."

(کتاب البیوع، الباب الاول، ج:3، ص:2، دارالفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"قال أصحابنا رحمهم الله كل لفظين ينبئان عن التمليك والتملك على صيغة الماضي أو الحال ينعقد بهما البيع كذا في المحيط فارسية كانت أو عربية أو نحوهما هكذا في التتار خانية وينعقد بالماضي بلا نية وبالمضارع بها على الأصح كذا في البحر الرائق فإذا قال البائع أبيع منك هذا العبد بألف أو أبذله أو أعطيكه وقال المشتري أشتريه منك أو آخذه ونويا الإيجاب للحال أو كان أحدهما بلفظ الماضي والآخر بالمستقبل مع نية الإيجاب للحال فإنه ينعقد وإن لم ينو لا ينعقد هكذا في القنية وأما ما تمحض للحال كأبيعك الآن فلا يحتاج إليها وأما ما تمحض للاستقبال كالمقرون بالسين وسوف أو الأمر فلا ينعقد به إلا إذا دل الأمر على المعنى المذكور كخذه بكذا فقال أخذته فإنه كالماضي كذا في النهر الفائق سئل أبو الليث الكبير عمن قال لآخر خذ هذا الثوب بعشرة فقال أخذت ثم البائع قال لا أعطيك قال ليس له ذلك وكذلك المشتري ليس له أن يمتنع بعد قوله أخذت كذا في المحيط ثم إذا كان بلفظ الأمر فلا بد من ثلاثة ألفاظ كما إذا قال البائع اشتر مني فقال اشتريت فلا ينعقد ما لم يقل البائع بعت أو يقول المشتري بع مني فيقول: بعت فلا بد من أن يقول ثانيا: اشتريت كذا في السراج الوهاج."

(کتاب البیوع، الباب الثانی، ج :3، ص:4، دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وهما عبارة عن كل لفظين ينبئان عن معنى التملك والتمليك ماضيين) كبعت واشتريت أو حالين) كمضارعين لم يقرنا بسوف والسين كأبيعك فيقول أشتريه أو أحدهما ماض والآخر حال.

(و) لكن (لا يحتاج الأول إلى نية بخلاف الثاني) فإن نوى به الإيجاب للحال صح على الأصح وإلا لا إذا استعملوه للحال كأهل خوارزم فكالماضي وكأبيعك الآن لتمحضه للحال، وأما المتمحض للاستقبال فكالأمر لا يصح أصلا إلا الأمر إذا دل على الحال كخذه بكذا فقال أخذت أو رضيت صح بطريق الاقتضاء فليحفظ.

(قوله: كالأمر) بأن قال: المشتري: بعني هذا الثوب بكذا فيقول: بعت أو يقول: البائع: اشتره مني بكذا فيقول: اشتريته. (قوله: لا يصح أصلا) أي سواء نوى بذلك الحال أو لا لكون الأمر متمحضا للاستقبال وكذا المضارع المقرون بالسين أو سوف. (قوله: كخذه بكذا إلخ) قال: في الفتح فإنه وإن كان مستقبلا لكن خصوص مادته أعني الأمر بالأخذ يستدعي سابقة البيع، فكان كالماضي إلا أن استدعاء الماضي سبق البيع بحسب الوضع واستدعاء خذ سبقه بطريق الاقتضاء فهو كما إذا قال: بعتك عبدي هذا بألف فقال: فهو حر عتق، ويثبت باشتريت اقتضاء بخلاف ما لو قال: هو حر بلا فاء لا يعتق."

(کتاب البیوع، ج:4، ص:510، 511، ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے :

"(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح ‌بيعه ‌قبل ‌القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض."

(کتاب البیوع،باب فی شرائط الصحة فی البیوع،ج:5،ص:180، ط:دارالکتب العلمیة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولو أعطاه الدراهم، وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان ولم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز وهذا حلال وإن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لا ينعقد البيع، وإنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحا. قلت: ووجهه أن ثمن الخبز معلوم فإذا انعقد بيعا بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فكذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولى."

(کتاب البیوع، مطلب البیع بالتعاطی، 4/ 516، ط: دار الفكر)

شرح المجلۃللاتاسی میں ہے:

"إذا انعقد الاستصناع فليس لأحد العاقدين الرجوع عنه و إذا لم يكن المصنوع على الأوصاف المطلوبة المبينة كان المستصنع مخيرًا لفوات الوصف المرغوب فيه أما الصانع فلا خيار له مطلقًا؛ لأنه باع مالم يره و لاخيار للبائع ... و أما إلزام الصانع على العمل و عدم رجوع الآمر عنه فهو و إن صرح به في التنوير للدرر و الوقاية إلا أنه مخالف لكثير من كتب المذهب لقول البحر : وحكمه الجواز دون اللزوم  و لذا قلنا للصانع أن يبيع المصنوع قبل أن يراه المستصنع لأن العقد غير لازم لما في البدائع : و أما صفته فهي أنه عقد غير لازم قبل العمل من الجانبين بلا خلاف ، حتي كان لكل واحد منها خيار الامتناع من العمل ، كالبيع با لخيار للمتبايعين فاِن لكل واحد منهما الفسخ  و أما بعد الفراغ من العمل قبل أن يراه المستصنع فكذلك حتى كان للصانع أن يبيعه ممن شاء و إذا أحضره الثاني فلا خيار لهما عند الثاني و عليه هذه المادة ...الخ" 

(الباب السابع في بيان البيع و أحكامه ، الفصل الرابع : في الاستصناع،رقم المادة  : 392 ،ج: 2/ 406،407 ط : مكتبة إسلامية ، كوئٹه)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) حكم ‌الاستصناع فحكمه في حق المستصنع - إذا أتى الصانع بالمستصنع على الصفة المشروطة - ثبوت ملك غير لازم في حقه حتى يثبت له خيار الرؤية إذا رآه، إن شاء أخذه وإن شاء تركه، وفي حق الصانع ثبوت ملك لازم إذا رآه المستصنع ورضي به، ولا خيار له، وهذا جواب ظاهر الرواية.وروي عن أبي حنيفة أنه غير لازم في حق كل واحد منهما حتى يثبت لكل واحد منهما الخيار.وروي عن أبي يوسف - رحمه الله - أنه لازم في حقهما حتى لا خيار لأحدهما لا للصانع ولا للمستصنع أيضا (وجه) رواية أبي يوسف أن في إثبات الخيار للمستصنع إضرارا بالصانع؛ لأنه قد أفسد متاعه وفرى جلده وأتى بالمستصنع على الصفة المشروطة فلو ثبت له الخيار لتضرر به الصانع فيلزم دفعا للضرر عنه.

(وجه) الرواية الأولى أن في اللزوم إضرارا بهما جميعا، أما إضرار الصانع فلما قال أبو يوسف: وأما ضرر المستصنع فلأن الصانع متى لم يصنعه، واتفق له مشتر يبيعه فلا تندفع حاجة المستصنع فيتضرر به فوجب أن يثبت الخيار لهما دفعا للضرر عنهما."

(فصل فی الشرائط التي یرجع إلی المسلم، 5/ 210، ط : دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101306

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں