بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کسی جگہ زرعی زمین اور گھر ہو تو کیا وہ وطن اصلی ہے؟


سوال

اگر کسی شخص کی دو جگہ رہائش ہو،  ایک جگہ ذاتی مکان اور دوسری جگہ سو کلومیٹر  سے زیادہ فاصلہ پر زرعی زمین، مکان اور رہائش ہو ،  لیکن ادھر  بچے نہ ہوں اور کام یعنی زمین کی دیکھ  بھال کے لیے، یہاں رکتا ہو تو  کیا یہ دوسر ی جگہ مسافر ہوگا یا مقیم یعنی قصر نماز ادا کرے گا یا مقیم والی؟

جواب

فقہاءِ کرام   نے وطنِ اصلی کی تعریف یہ کی ہے کہ انسان کی جائے ولادت یا  جہاں اس نے شادی کرکے رہنے کی نیت کرلی یا کسی جگہ مستقل رہنے کی نیت کرلی تو یہ جگہ وطنِ اصلی بن جاتی ہے، مذکورہ صورت میں جس جگہ زرعی زمین اور عارضی رہائش ہے، مستقل رہائش نہیں ہے، وہ جگہ وطن اصلی نہ بنے گی، اگر 15 دن رہنے کی نیت کرکے آئے گا تو پوری نماز پڑھے گا  ورنہ قصر پڑھے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202063

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں