بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

وطن اصلی کو دوسری جگہ بنانے کے بعد پہلے والے وطن میں قصر نماز کا حکم


سوال

ایک شخص اپنے گاؤں گیا ہے اگر چہ وہاں اس کا اپنا گھر بھی ہے اور زمین بھی ہے لیکن وہاں اس کے اہل و عیال میں سے کوئی نہیں رہتا اور نہ ہی مستقبل میں رہنے کا ارادہ ہے۔ آیا وہ شخص وہاں گاؤں میں نماز پوری پڑھے گا یا قصر کرے گا ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی آدمی اپنےاہل وعیال سمیت اپنے آبائی وطن کو مستقل طور پر  چھوڑ کرشرعی مسافت کے بقدر  دور جاکردوسرے مقام پر مستقل رہائش پذیر ہوجائےاور آئندہ پہلے والے وطن اصلی میں مستقل رہائش اختیار کرنے کاکوئی ارادہ نہ ہو(یعنی دوسری جگہ کو وطن اصلی بنالے) تو اس کا آبائی وطن اس  کا وطن اصلی نہیں رہتا،  بلکہ اب اس کا وطن اصلی  وہی ہوگا، جہاں پر اس نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ رہائش اختیار کی ہے، لہٰذا اگر یہی شخص کبھی کبھی آبائی وطن جاتاہو اور وہاں پر پندرہ دن سے کم رہنے کا ارادہ ہو تو وہاں قصر کرے گا اتمام نہیں کرےگا۔

صورت ِمسئولہ میں مذکورہ شخص نے اس علاقہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ مستقل رہائش اختیار کر لی ہے اور آئندہ مستقل رہائش کے لیے یہاں آنے کا ارادہ بھی نہیں ہے ، تو یہ شخص جب اپنے گاؤں پندرہ دن سے کم کی نیت سے رہنے کے لیے جائے گا تو وہاں قصر کرے گا ۔

مسند احمد میں ہے:

حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي ذباب، عن أبيه:أن عثمان بن عفان صلى بمنى أربع ركعات، فأنكره الناس عليه، فقال: يا أيها الناس، إني تأهلت بمكة منذ قدمت، وإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من تأهل في بلد فليصل صلاة المقيم "

(مسند عثمان بن عفان رضي اللہ عنہ:ج،1:ص،496:رقم،443:ط،مؤسسۃ الرسالۃ)

الدر المختار میں ہے:

"(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه ولم يذكر وطن السكنى وهو ما نوى فيه أقل من نصف شهر لعدم فائدته۔

وفی الرد:

(قوله أو تأهله)۔۔۔ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما، فإن ماتت زوجته في إحداهما وبقي له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة واستقرت سكنا له وليس له فيها دار وقيل تبقى. اهـ. (قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية۔"

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر:ج،2:ص،131:ط، سعید)

بدائع الصنائع ميں ہے:

"الأوطان ثلاثة: وطن أصلي: وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها.(ووطن) الإقامة: وهو أن يقصد الإنسان أن يمكث في موضع صالح للإقامة خمسة عشر يوما أو أكثر. (ووطن) السكنى: وهو أن يقصد الإنسان المقام في غير بلدته أقل من خمسة عشر يوما ۔۔۔ فالوطن الأصلي ينتقض بمثله لا غير وهو: أن يتوطن الإنسان في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها من بلدته فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا، حتى لو دخل فيه مسافرا لا تصير صلاته أربعا، وأصله أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - والمهاجرين من أصحابه - رضي الله عنهم - كانوا من أهل مكة وكان لهم بها أوطان أصلية، ثم لما هاجروا وتوطنوا بالمدينة وجعلوها دارا لأنفسهم انتقض وطنهم الأصلي بمكة، حتى كانوا إذا أتوا مكة يصلون صلاة المسافرين، حتى قال النبي - صلى الله عليه وسلم - حين صلى بهم: «أتموا يا أهل مكة صلاتكم فإنا قوم سفر» ؛ ولأن الشيء جاز أن ينسخ بمثله، ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نية أهله الخروج منها، وإن كان هو ينتقل من أهل إلى أهل في السنة، حتى أنه لو خرج مسافرا من بلدة فيها أهله ودخل في أي بلدة من البلاد التي فيها أهله فيصير مقيما من غير نية الإقامة."

(كتاب الصلاة، فصل مایصیرالمسافر بہ مقیماً:ج،1:ص، 103:ط،سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144503102138

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں