بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بچی کا نام واسفہ اور تاشفہ رکھنا


سوال

میری دو بیٹیاں ہيں،  ان کے نام صحیح ہیں ؟واسفہ نام  کا  معنی کیا ہے؟ اور  یہ  نام رکھنا کیسا ہے؟  اور تاشفہ نام کے معنی کیا  ہے؟ اور یہ  نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

”واسفہ“ (س کے ساتھ) کے معنی ہیں، کسی چیز کو چھیلنے والی، کھال اتارنے والی، یہ نام معنی کے اعتبار سے  درست نہیں ہے، البتہ ”واصفہ“ (ص کے ساتھ ) کے معنی تعریف کرنے والی، بیان کرنے والی،  یہ نام رکھنا درست ہے۔ 

باقی  ”تاشفہ“ نام کا معنی  عربی، اردو اور فارسی کی متداول لغات میں نہیں مل سکا، لہذا  اس کے بجائے کوئی  اور اچھا بامعنی نام رکھ لیں، یا بچیوں کے نام صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں پر رکھ لیں ، یہ بہتر  اور باعثِ برکت بھی ہے۔

المعجم الوسيط میں ہے:

"(وسف)  الشَّيْء قشره.(توسف) الشَّيْء تقشر وَالْبَعِير ظهر بِهِ الوسف وأخصب وَسمن وَسقط وبره الأول وَنبت الْجَدِيد وأوبار الْإِبِل تطايرت عَنْهَا وافترقت.(الوسف) تشقق يَبْدُو فِي مقدم فَخذ الْبَعِير وعجزه عِنْد السّمن والاكتناز حَتَّى يعم جسده فيتقشر جلده."

 (2 / 1032، باب الواو، ط: دار الدعوة)

وفیہ أیضاً :

"(وصف) الْمهْر والناقة وَنَحْوهمَا (يصف) وَصفا ووصوفا أَجَاد السّير وجد فِيهِ وَالصَّغِير الْمَشْي وَصفا أطاقه وَالشَّيْء وَصفا وَصفَة نَعته بِمَا فِيهِ والطبيب الدَّوَاء عينه باسمه ومقداره وَالْخَبَر حَكَاهُ وَالثَّوْب الْجِسْم أظهر حَاله وَبَين هَيئته وَفِي حَدِيث عمر فِي الثَّوْب الرَّقِيق (إِلَّا يشف فَإِنَّهُ يصف) فَهُوَ واصف."

(2 / 1036، باب الواو، ط: دار الدعوة)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144402101796

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں