بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

واشنگ مشین میں کپڑے دھو کر جاری پانی میں رکھنے کا حکم


سوال

ہمارے گھر میں عورتیں واشنگ مشین سے کپڑے نکال کر ٹب میں رکھ لیتی ہیں اور پھر اس میں جاری پانی کا پائپ رکھ لیتی ہیں، پھر جب ٹب پانی سے بھر جائے تو اسی ٹب سے جوڑا نکال کر اچھی طرح نچوڑ لیتی ہیں تو کیا اس طرح کرنے سے کپڑے پاک ہو جاتے ہیں؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں واشنگ مشین  میں دھلنے کے بعد ٹب میں کپڑے رکھ کر جاری پانی  کاپائپ رکھنے کی صورت میں جب دکھنے والی نجاست (وہ نجاست جو سوکھنے کے بعد بھی نظر آئےجیسے خون) زائل ہوجائے اور نہ دکھنے والی نجاست (جو سوکھنے کے بعد نظر نہ آئے جیسے پیشاب)کے زائل ہونے کا غالب گمان ہوجائے  تو کپڑے پاک ہوجائیں گے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.

أقول: لكن قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها ولو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل ولا عصر، وأن المعتبر غلبة الظن في تطهير غير المرئية بلا عدد على المفتى به أو مع شرط التثليث على ما مر، ولا شك أن الغسل بالماء الجاري وما في حكمه من الغدير أو الصب الكثير الذي يذهب بالنجاسة أصلا ويخلفه غيره مرارا بالجريان أقوى من الغسل في الإجانة التي على خلاف القياس؛ لأن النجاسة فيها تلاقي الماء وتسري معه في جميع أجزاء الثوب فيبعد كل البعد التسوية بينهما في اشتراط التثليث، وليس اشتراطه حكما تعبديا حتى يلتزم وإن لم يعقل معناه، ولهذا قال الإمام الحلواني على قياس قول أبي يوسف في إزار الحمام: إنه لو كانت النجاسة دمًا أو بولًا وصب عليه الماء كفاه، وقول الفتح إن ذلك لضرورة ستر العورة كما مر رده في البحر بما في السراج، وأقره في النهر وغيره."

(کتاب الطہارۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۳۳۳، ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112201256

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں