بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

وارث بنانے کے لیے بچہ گود لینے کا حکم


سوال

 میرا کوئی بچہ نہیں ہے،  13 سال شادی کو ہو گئے  ہیں،  میں بچہ گود لینا چاہتا ہوں اپنے حصے کا وارث بنا کر تاکہ  میرے مرنے کے بعد میرا گھر بچا رہے، تو کیا میرے لیے ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کسی  بچے کو گود لے کر پالنا چاہتا ہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، البتہ اس کی نسبت اس کے حقیقی والد کی طرف ہی کی جائے گی، اور وہ اپنے حقیقی والد ہی کا وارث بنے گا، سائل کے ساتھ چوں کہ اس کا کوئی نسبی رشتہ نہیں ہوگا اس لیے ان کے درمیان  وراثت جاری نہیں  ہوگی، لہٰذا  نہ تو وہ لے پالک سائل کا وارث بن  سکتا ہے،   اور نہ ہی سائل اس کا وارث بن سکتا ہے، البتہ  اگر سائل لے پالک کو اپنا گھر دینے کا ارادہ رکھتا ہو اور سائل کے نہ والدین حیات ہوں، نہ ہی اہلیہ ہے، نہ کوئی اولاد ہے، اسی طرح نہ کوئی قریب یا دور کا رشتہ دار ہے جو سائل کا وارث بنے یا مذکورہ گھر کے علاوہ سائل کے پاس اتنی جائیداد ہے کہ ورثاء کو ان کا حصہ جاری ہوسکے گا اور سائل کا مقصد ورثاء کو جائیداد سے محروم کرنا نہ ہو تو  سائل یہ گھر اپنے قبضہ وتصرف سے فارغ کر کے مکمل قبضہ کے ساتھ لے پالک کو دے کر ہدیہ کرے گا تو اس کی ملکیت ہوجائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء".

(كتاب الفرائض وفيه ثمانية عشر بابا، الباب الأول في تعريف الفرائض، 447/6، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل". 

(كتاب الهبة، 690/5، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144409100786

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں