بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ورثا کا مرحوم کے سیونگ اکاؤنٹ سے سودی رقم وصول کرلینے کے بعد سودی رقم کی حتمی مقدار معلوم نہ ہونے کا حکم


سوال

 میرے والد محترم کا انتقال ہوا ہے میرے والد کا بینک میں ایک اکاؤنٹ تھا والد کے وفات کے بعد بینک سے میں نے سارے پیسے نکالے جو کہ 9 لاکھ تھے میں نے شرعی طریقے سے سب تقسیم کیے اور سب بہنوں نے اپنے پیسے میرے پاس بطور امانت رکھ لیے میرے چار بھائی اور پانچ بہنیں ہیں سب شادی شدہ ہیں بھائی سب اکٹھے رہتے ہیں والدہ کے ساتھ ہم چار بھائیوں کے حصے کی رقم پر ہم نے ایک دوکان ڈالی جس پر دو لاکھ کا خرچہ آیا ہم سے دو لاکھ دوکان میں خرچ ہو گے اس کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ والد صاحب کا بینک اکاؤنٹ تو سیوینگ تھا ہم نے بینک سٹاٹمنٹ لی جس سے معلوم ہوا کہ والد صاحب نے اکاؤنٹ جون 2003 میں کھولا تھا اور والد صاحب اس میں پیسے ڈالتے اور نکال تھے اور بینک سے ہمیں 2012 سے پہلے کی سٹاٹمنٹ نہیں مل رہی ہے وہ کہہ رہیں ہیں کہ اس سے پہلے کا ریکارڈ کمپیوٹر میں نہیں آرہاہے 2012 سے 2023 تک سٹاٹمنٹ کے مطابق 9 لاکھ روپے میں پروفٹ جو آیا ہے وہ 543000 ہے اب 2003 سے 2011 تک کا سٹاٹمنٹ نہیں مل رہا والد صاحب کے اکاؤنٹ میں 2012 کے سال کا پروفٹ 25000 ہزار آیا ہے اور 2023 سال کا پروفٹ 130000 ہزار آیا ہے اب یہ پروفٹ کا پیسہ تو سود ہے اب بقایا 2003 سے 2011 تک کیسے حساب لگائیں جس سے والد صاحب کا سود کا گناہ ختم ہو جائے اور ہم بھائیوں نے جو دوکان میں دو لاکھ استعمال کیے سود کے پیسے اس کا ہم نے پختہ ارادہ کیا ہوا ہے کہ ہم اس دوکان کے پروفٹ سے 2 لاکھ روپے حسب توفیق ہر روز یا ہر مہینے غریبوں میں تقسیم یا استعمال کریں گے کیا یہ طریقہ تقسیم یا استعمال صحیح ہے سود کے پیسوں کا جو ہم سے استعمال سے ہوئے ہیں

جواب

1۔ اصل حکم تو یہ تھا کہ آپ سیونگ اکاؤنٹ کی سودی رقم بینک سے وصول ہی نہ کرتے، البتہ اگر آپ لوگوں نے لاعلمی کی وجہ سے اصل رقم مع سودی رقم کے وصول کرلی ہے اور   آپ لوگوں کو 2003 سے 2011 کے درمیان اضافہ شدہ سود کی رقم کی حتمی مقدار معلوم نہیں ہوسکتی ہو تو ایسی صورت میں غالب گمان کے مطابق عمل کرنا پڑے گا، یعنی آپ لوگ 2012 سے 2023 کے دوران اضافہ شدہ سودی رقم سے خود بھی اور بینک کے عملہ سے مدد لے کر اندازہ لگانے کی کوشش کریں کہ 2003 سے 2011 کے دوران اضافہ شدہ سود کی رقم کتنی ہوگی، پھر اس اندازے کے مطابق احتیاطا کچھ رقم بڑھاکر سودی رقم متعین کرلیں اور پھر ہر وارث کے حصے میں تقسیم کے تناسب سے جتنی سودی رقم آئی ہو وہ اسے ثواب کی نیت کیے بغیر صدقہ کردے۔ 

فتاوی شامی میں ہے :

"وفي الأشباه الحرمة تنتقل مع العلم إلا للوارث إلا إذا علم ربه.

 قلت: ومر في البيع الفاسد لكن في المجتبى مات وكسبه حرام فالميراث حلال ثم رمز وقال لا نأخذ بهذه الرواية وهو حرام مطلقا على الورثة فتنبه.

(قوله: إلا إذا علم ربه) أي رب المال فيجب على الوارث رده على صاحبه (قوله: وهو حرام مطلقا على الورثة) أي سواء علموا أربابه أو لا فإن علموا أربابه ردوه عليهم، وإلا تصدقوا به كما قدمناه آنفا عن الزيلعي.أقول: ولا يشكل ذلك بما قدمناه آنفا عن الذخيرة والخانية لأن الطعام أو الكسوة ليس عين المال الحرام فإنه إذا اشترى به شيئا يحل أكله على تفصيل تقدم في كتاب الغصب بخلاف ما تركه ميراثا فإنه عين المال الحرام وإن ملكه بالقبض والخلط عند الإمام فإنه لا يحل له التصرف فيه أداء ضمانه، وكذا لوارثه ثم الظاهر أن حرمته على الورثة في الديانة لا الحكم فلا يجوز لوصي القاصر التصدق به ويضمنه القاصر إذا بلغ تأمل (قوله: فتنبه) أشار به إلى ضعف ما في الأشباه ط."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، 6/ 385، ط: سعید)

معارف السنن میں ہے :

"قال شيخنا:ويستفاد من كتب فقهائناكالهدايه وغيرها:أن من ملك بملك خبيث ،ولم يمكنه الرد إلي المالك ،فسبيله التصدق علي الفقراء....قال:والظاهر أن المتصدق بمثله ينبغي أن ينوي به فراغ ذمته ،ولايرجو به المثوبة".

(أبواب الطهارة ،باب ماجاء:لاتقبل صلاة بغير طهور،1/ 34 ط: المكتبة  الاشرفيه)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144505101673

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں