بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

وقت سے 15 منٹ پہلے دی گئی اذان کا حکم


سوال

اذان  وقت سے  15 منٹ پہلے کہہ دی تو کیا حکم ہے؟  کیا 15 منٹ بعد اذان کا اعادہ ضروری ہے؟

جواب

نماز کا وقت داخل ہونے سے   پہلے  دی  گئی اذان  کا اعادہ ضروری ہے۔

الفتاوى الهندية  میں ہے:

"تقديم الأذان على الوقت في غير الصبح لا يجوز اتفاقا وكذا في الصبح عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى وإن قدم يعاد في الوقت. هكذا في شرح مجمع البحر الرائق لابن الملك وعليه الفتوى. هكذا في التتارخانية ناقلا عن الحجة وأجمعوا أن الإقامة قبل الوقت لا تجوز، كذا في المحيط."

(کتاب الصلاۃ باب الاذان ج نمبر ۱ ص نمبر ۵۳،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200439

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں