بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شوال 1443ھ 21 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

والدین شادی نہیں کرارہے تو کیا کرنا چاہیے؟


سوال

میرا ایک سال پہلے پسند سے صرف رشتہ طے ہوا تھا،  جس میں شادی کے لیے میرے والدین نے لڑکی اور اس کے گھر والوں کی رضا مندی سے  ایک سال کا وقت مانگا تھا،ایک سال کےدرمیان ہم دونوں کے درمیان کچھ بات خراب ہوئی، لیکن  بات زیادہ نہیں بگڑی،  اب میں  نے اپنے گھر والوں سے درخواست کی کہ تین ماہ بعد شادی کرادیں، لیکن وہ نہیں مان رہے، والدہ کہہ  رہی ہیں کہ شادی کی تو تمہاری  شادی میں نہیں  آؤں گی، اور  والد کہہ رہے ہیں کہ میں تمہاری شادی میں نہیں آؤں گا۔

اب  سوال  یہ  ہے کہ  مجھے  شادی کی اشد ضرورت ہے اور  میں ماہانہ کماتا بھی ہوں ، نان نفقہ دینے کی استطاعت بھی ہے اور اگر شادی نہ کرائی گئی تو گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، لیکن اس کے باوجود والدین نہیں راضی ہورہے حتی کہ میں نے یہ بھی کہا کہ آپ والدین جہاں بولیں میں تیارہوں مجھے اپنی پسند آپ دونوں کی پسند پر قربان ہے؛  لہذا آپ حضرات ہی میری رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟

جواب

واضح رہے  کہ دینِ  اسلام میں ماں باپ پر اولاد کے حقوق میں سے  ہے  کہ جب بچہ پیدا ہو جائے تو اس کا اچھا نام رکھیں ، اور پیدائش کے ساتویں دن یا چودھویں یا اکیسویں دن اس کی طرف سے عقیقہ کردیں اور اس کے بعد سرمنڈا دیں اوربالوں کے برابر چاندی یا اس کی قیمت صدقہ کردیں ، اور اس کو اچھی تعلیم و تربیت دیں ، یہ تمام ذمہ داری بچہ کے بالغ ہونے سے قبل ماں باپ کے ذمہ عائد ہوتی ہیں ، اور جب بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کردیں ، اور تاخیر نہ کریں ،لہذا بچہ جب بالغ ہوجائے تو جلد سے جلد اس کے جوڑ کا رشتہ ڈھونڈ کر اس کا نکاح کردینا چاہیے بشرطیکہ لڑکا اپنی بیوی کا نفقہ دینے پر خود قادر ہو یا کوئی ( والد وغیرہ) اس کا اور اس کی بیوی کا خرچہ اٹھانے کے لیے تیار ہو، اگر قرائن سے اندازہ ہو کہ بیٹا شادی کرنا چاہتا ہے ورنہ گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے اور پھر بھی والدین بلا کسی عذر کے اس کی شادی کرانے میں غیر ضروری تاخیر کریں تو گناہ میں مبتلا ہونے کی صورت میں والدین پر بھی اس کا وبال آئے گا۔حدیث شریف میں ہے:

"و عن أبي سعيد و ابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه و أدبه فإذا بلغ فليزوّجه، فإن بلغ و لم يزوّجه فأصاب إثماً فإنما إثمه على أبيه»."

(مشكاة المصابيح (2/ 939)

ترجمہ: جس کے ہاں بچہ پیدا ہو  اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، بالغ ہونے پر اس کی شادی کرے، اگر شادی نہیں کی اور اولاد نے کوئی گناہ کرلیا تو باپ اس جرم میں شریک ہوگا اور گناہ گار ہوگا۔

 کنز العمال میں حدیثِ  مبارک  ہے:

"حق الولد علی والدہ أن یحسن اسمه و یزوجه إذا أدرك و یعلمه الکتاب."

”باپ پر بچے کا یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور بالغ ہونے کے بعد اس کی شادی کرائے اور اسے قرآن کا علم سکھائے۔“(کنز العمال ۱۶/۴۱۷)

حديث شريف ميں ہے:

"و عن عمر بن الخطاب و أنس بن مالك رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " في التوراة مكتوب: من بلغت ابنته اثنتي عشرة سنةً و لم يزوّجها فأصابت إثماً فإثم ذلك عليه. رواهما البيهقي في شعب الإيمان."

(مشكاة المصابيح (2/ 939)

ترجمہ: تورات میں درج ہے کہ جس کی بیٹی بارہ سال کی ہوجائے اور وہ اس کا نکاح نہ کرے، پھر لڑکی سے کوئی گناہ ہوجائے تو باپ بھی گناہ گار ہوگا۔

لہٰذصورتِ  مسئولہ میں سائل(بیٹا)  جب  بیوی کا نان نفقہ ادا کرسکتا ہے تو  اس کو چاہیے کہ اپنے خاندان کےذمہ دار حضرات سے مشورہ کر کے اس مسئلہ پر والدین کو متوجہ کرے اور والدین کی رضامندی سے جہاں وہ کہیں سادگی سے شادی کرے ، والدین اس کے باوجود نکاح کرنے پر راضی نہیں ہیں تو سائل جہاں مناسب سمجھتا ہے ،نکاح کرسکتا ہے،گناہ گار اور والدین کا نافرمان نہیں کہلائے گا۔

ردالمحتار میں ہے:

"(و يكون واجبًا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية، و هذا إن ملك المهر و النفقة و إلا فلا إثم بتركه بدائع ... و يندب إعلانه و تقديم خطبة و كونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد و شهود عدول و الاستدانة له."

(کتاب النکاح ،ج:3، ص:8، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100841

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں