بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کا بیٹے کو روزہ کا فدیہ دینا

سوال

ماں بیٹے کو روزے کا ہدیہ دے سکتی ہے؟

جواب

فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے، اور زکاۃ اپنے اصول (والدین دادا/دادی، نانا، نانی وغیرہ) وفروع(اولاد، پوتے /پوتی، نواسے/ نواسی وغیرہ) کو نہیں دے سکتے، لہذا ماں  اپنے روزے کا فدیہ اپنے بیٹے کو نہیں دے سکتی۔

نیز واضح رہے کہ  روزے کا فدیہ ادا کرنا اس شخص پر لازم ہے، جسے ایسی بیماری لاحق ہوگئی ہو جس سے آئندہ شفایاب ہونے کی امید باقی نہ رہی ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت نہ بچی ہو، یا اتنا بڑھاپا آگیا ہو کہ روزے کی بالکل طاقت نہ ہو۔ البتہ اگر عارضی بیماری کی وجہ سے فی الحال روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو، تو ایسی صورت میں صحت یاب ہونے کے بعد روزوں کی قضا کرنا ضروری ہے، فدیہ ادا کرنا کافی نہیں۔

اگر روزے کے ہدیہ سے مراد  کچھ اور ہو تو  اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال پوچھا جاسکتا ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201774
تاریخ20-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں