والدہ کا بیٹے کو روزہ کا فدیہ دینا
سوال
ماں بیٹے کو روزے کا ہدیہ دے سکتی ہے؟
جواب
فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے، اور زکاۃ اپنے اصول (والدین دادا/دادی، نانا، نانی وغیرہ) وفروع(اولاد، پوتے /پوتی، نواسے/ نواسی وغیرہ) کو نہیں دے سکتے، لہذا ماں اپنے روزے کا فدیہ اپنے بیٹے کو نہیں دے سکتی۔
نیز واضح رہے کہ روزے کا فدیہ ادا کرنا اس شخص پر لازم ہے، جسے ایسی بیماری لاحق ہوگئی ہو جس سے آئندہ شفایاب ہونے کی امید باقی نہ رہی ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت نہ بچی ہو، یا اتنا بڑھاپا آگیا ہو کہ روزے کی بالکل طاقت نہ ہو۔ البتہ اگر عارضی بیماری کی وجہ سے فی الحال روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو، تو ایسی صورت میں صحت یاب ہونے کے بعد روزوں کی قضا کرنا ضروری ہے، فدیہ ادا کرنا کافی نہیں۔
اگر روزے کے ہدیہ سے مراد کچھ اور ہو تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال پوچھا جاسکتا ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

