بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

والدہ کا بیٹے کو روزہ کا فدیہ دینا


سوال

ماں بیٹے کو روزے کا ہدیہ دے سکتی ہے؟

جواب

فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے، اور زکاۃ اپنے اصول (والدین دادا/دادی، نانا، نانی وغیرہ) وفروع(اولاد، پوتے /پوتی، نواسے/ نواسی وغیرہ) کو نہیں دے سکتے، لہذا ماں  اپنے روزے کا فدیہ اپنے بیٹے کو نہیں دے سکتی۔

نیز واضح رہے کہ  روزے کا فدیہ ادا کرنا اس شخص پر لازم ہے، جسے ایسی بیماری لاحق ہوگئی ہو جس سے آئندہ شفایاب ہونے کی امید باقی نہ رہی ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت نہ بچی ہو، یا اتنا بڑھاپا آگیا ہو کہ روزے کی بالکل طاقت نہ ہو۔ البتہ اگر عارضی بیماری کی وجہ سے فی الحال روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو، تو ایسی صورت میں صحت یاب ہونے کے بعد روزوں کی قضا کرنا ضروری ہے، فدیہ ادا کرنا کافی نہیں۔

اگر روزے کے ہدیہ سے مراد  کچھ اور ہو تو  اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال پوچھا جاسکتا ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201774

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں