بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بیع الاب الاموال المقسومۃ مین الاولاد بغیر اجازۃ من المالک


سوال

اعزائی:فی دارالافتاءجامعة العلوم الاسلامیة.السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته.سئالی:قسم الأب اموال غیر المنقولة علی أبنائه بعد مرور خمسة سنوات یبیع الأب حصة احد الأبناء علی الآخر فی غیاب صاحب المال هل ینعقد هذا البیع أم لا؟أرجوا منکم الفتوا فی هذه المسئلة

جواب

ان قسّم الاب الاموال علی الاولاد ویتم قبضھم علیھا فقد انقطع حق الوالد من تلک الاموال فلایجوز لہ التصرف فیھا الا باجازۃ من صاحب المال، ففی الصورۃ المستفسرۃ لاینعقد البیع المذکور الا اذا اجازہ المالک۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143503200030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں