بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

والد کی زندگی میں بیٹی کا انتقال ہونے کی صورت میں اس کے بچوں کا نانا کی میراث میں سے حصہ


سوال

ایک باباجی نے اپنی بیٹی کی شادی کی، تین بیٹے تھے، اور وفات پاگئیں، کچھ سال بعد باباجی کا بھی انتقال ہوگیا، اب باباجی کی وراثت سے بیٹی  کے بچوں کا حصہ ہوگا نانا کی وراثت سے؟

جواب

سوال میں جو تفصیل ذکر کی گئی ہے بظاہر اس میں "تین بیٹے تھے" سے مراد  باباجی کی بیٹی  کے تین بیٹے ہیں، اس صورت میں مرحوم بابا کے ورثاء کی تفصیل بتانا ضروری ہوگا کہ ان کی اور کون کون اولاد ہے، اولاد نہ ہو تو بھائی، ان کے بیٹے، چاچا وغیرہ  اس سب کی تفصیل بتاکر دوبارہ سوال پوچھ سکتے ہیں۔ 

اور اگر اس میں ’’تین بیٹے تھے‘‘ کا مطلب یہ  کہ مذکورہ شخص (باباجی) کے تین بیٹے تھے تو اس صورت میں بیٹی کا انتقال اپنے والد کی زندگی میں ہونے کی وجہ سے اس کا وراثت میں حق و حصہ نہیں ہوگا،  اور  باباجی کے انتقال کے بعد اس کے ترکے میں سے نواسوں اور نواسیوں کو حصہ نہیں ملے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201201023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں