بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 شوال 1443ھ 20 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

والد کی اجازت کے بغیر لڑکی کا غیر کفو میں نکاح کرنے کا حکم


سوال

ایک لڑکی ۔۔۔۔ بنتِ ۔۔۔۔۔  اس کے والد نےاس کی والدہ کو24/11/2015کوطلاق دے دی تھی ،اس کے بعداپنی ان دونوں بیٹیوں (۔۔۔۔۔ اور اس کی بڑی بہن) کواپنی کفالت میں اپنے پاس رکھناچاہتاتھا،مگرلڑکیوں نے مقامی ویلج کونسل کی مصالحتی کمیٹی کےسامنےوالد کےساتھ رہنے سے انکار کردیاتھا اوروالدہ کےساتھ اسی والد والے پرانےمکان میں رہنےلگیں، مقامی ویلج کونسل کی مصالحتی کمیٹی نےبھی فیصلہ دیاکہ لڑکیاں اپنی اپنی شادی تک والدہ کے ساتھ رہیں گی اور والد نے بیٹیوں کو خرچہ دینے سے انکاردیااورکراچی چلاگیا،پھر والد نے18/10/2017کاروزنامہ جنگ راولپنڈی میں اشتہار دیاکہ میری بیٹیوں نےمیری کفالت میں آنےسےانکارکردیاہے؛ لہٰذا میں ان کے کسی قول وفعل کاذمہ دار نہیں ہوں، بقول مذکورہ لڑکی ۔۔۔۔۔۔ بنت ۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنی منگنی سے پہلے والد صاحب کوکراچی فون کیاکہ ابو آپ ہمارے مستقبل کا کوئی فیصلہ کریں توانہوں نےجواب دیاکہ میں کوئی جواب دار نہیں ہوں، تم جومرضی کرو ،تو جب لڑکی کے والد سے پوچھاگیاتواس نےکہاکہ میں نے بیٹی کوکہاتھا کہ میرےپاس میری کفالت میں آؤ تومیں سب کچھ کروں گا،ورنہ میرا مکان خالی کرکےجاؤ اور پھرجومرضی کرو ،مورخہ 30/10/2020کواسی لڑکی کانکاح لڑکی کی رضامندی سے اس کے خالوکے بھتیجےسے (جوکہ غیرخاندان میں سےہے)اس کی والدہ اورماموں اوردیگر15,20آدمیوں کی موجودگی میں مقامی جامع مسجد میں ہوا اور اب اس کا والد دارالعلوم کراچی سے فتوٰی لایا ہےکہ والدکی اجازت کے بغیر یہ نکاح غیرکفو میں کیاگیاہے ، اس لیے نکاح ہی نہیں ہوا، لہٰذا  قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ یہ نکاح منعقد ہواہے یا نہیں ہوا؟جب کہ 5جون2021 کورخصتی بھی ہو چکی ہے۔

جواب

 اگر عاقلہ بالغہ  لڑکی اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر اپنا نکاح خود کرے تو شرعًا ایسا نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اگرچہ والدین/  ولی  کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعاً پسندیدہ نہیں ہے، اگر عاقلہ بالغہ لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر کفو میں نکاح کیا ہے توپھر لڑکی کے اولیاء   کو وہ نکاح  فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا ، لیکن  اگر لڑکی نے  ولی کی اجازت کے بغیر    غیر کفو میں نکاح کیا   تو   لڑکی کے اولیاء کو  اس کی اولاد ہونے سے پہلے پہلے عدالت سے  رجوع کرکے اس نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اگر نکاح کے بعد اس لڑکی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوجائے تو پھر اولیاء کو فسخِ نکاح کا اختیار نہیں ہوتا۔

 کفو کا مطلب یہ ہے کہ  لڑکا دین،دیانت، نسب، پیشہ ، مال اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ ہو ، اس سے کم نہ ہو۔ صرف خاندان الگ ہونے کی وجہ سے غیر کفو نہیں ہوتا۔

لہٰذا صورتِ  مسئولہ میں اگر لڑکی نے واقعتًا والد  کی اجازت کے بغیر غیر کفو  میں  نکاح کیا ہو تب بھی یہ نکاح منعقد ہوگیا ہے، البتہ غیر کفو  میں نکاح کرنے کی وجہ سے لڑکی کے ولی (والد) کو اس نکاح پر اعتراض کر نے اور اولاد ہونے سے پہلے پہلےعدالت میں تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر کے اس نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار  ہوگا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(فنفذ نكاح حرة مكلفة  بلا) رضا (ولي)، والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه، وما لا فلا".

 (3/ 55، کتاب النکاح ، باب الولی، ط: سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول، سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر، غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض".

 (2/ 247،کتاب النکاح، فصل ولایۃ الندب والاستحباب فی النکاح، ط: سعید )

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخراً وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض ... وفي البزازية: ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي، فإن لم يكن صح النكاح اتفاقاً، كذا في النهر الفائق، ولا يكون التفريق بذلك إلا عند القاضي، أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما".

(1/ 292، کتاب النکاح، الباب الخامس فی الاکفاء فی النکاح، ط: رشیدیہ)

         فتاوی شامی میں ہے:

"ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال: 

إن الكفاءة في النكاح تكون في ... ست لها بيت بديع قد ضبط

نسب وإسلام كذلك حرفة ... حرية وديانة مال فقط".

(3/ 86، کتاب النکاح، باب الکفاءۃ، ط: سعید) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200548

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں