بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

والد کے انتقال کے بعد ان کے گھرکو ہدیہ کرنے کا حکم


سوال

میرے نانا کا ایک گھر تھا جو انہی کی ملکیت تھا،والدہ نانا کے ساتھ اسی گھر میں  رہتی رہی،اور نانا کے انتقال کے بعد بھی اسی میں رہتی رہیں،پھراپنی زندگی میں زبانی  یہ کہا تھا کہ یہ تیراہے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا  یہ گھر میرے پاس رہے گا یا نانا کے ورثاء میں تقسیم ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب مذکورہ مکان سائل کے نانا کی ملکیت تھا تو وہ نانا کا ترکہ ہونے کے سبب ان کےتمام شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے  تقسیم کرنا ضروری ہے۔سائل کی والدہ کے یہ کہنے سے کہ"یہ تیرا ہے" سائل کی ملکیت شمار نہیں ہوگا۔

وفی الفتاوى الهندية:

 "والإرث في اللغة البقاء وفي الشرع انتقال مال الغير إلى الغير على سبيل الخلافة، كذا في خزانة المفتين."

(کتاب الفرائض/6/ 447ط:رشیدیہ) 

وفی الفقه الإسلامي وأدلته:

‌‌"الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي."

(الفصل الاول، تعریف علم المیراث/10/ 7697/ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100375

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں