بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

والد اور جوان بیٹی کا ایک کمرے میں سونا


سوال

کیا باپ اور اس کی جوان بیٹی ایک کمرے میں اکیلے سو سکتے ہوں  جب کہ گھر میں مزید کمرے بھی ہوں اور لڑکی کی والدہ برابر والے کمرے میں اپنی بہو  کے  ساتھ  سوتی  ہو؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  اگر  گھر میں  مختلف کمرے موجود ہوں  تو  جوان  بیٹی کو والد کے کمرے میں تنہا سونے سے اجتناب کرنا چاہیے،  ورنہ والدہ کو بھی ان کے ساتھ  والد کے کمرے میں ہی سونا چاہیے، والدہ کا بہو کے ساتھ اور والد کی  بیٹی کے ساتھ ایک کمرے میں سونا نامناسب طریقہ  ہے۔

  البتہ اگر کسی  وجہ سے والد اور بیٹی ایک کمرے میں سوئیں اور دونوں کے بستر الگ الگ ہوں اور کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ بھی  نہ ہو ، یہ ناجائز نہیں ہوگا، اور اگر  کسی قسم کا فتنہ کا اندیشہ ہو یا بستر الگ الگ نہ ہو  جوان بیٹی کا والد کے کمرے میں سونا جائز نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200821

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں