بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شوال 1445ھ 28 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

والد كے ملازم (عامل) بيٹے كي طرف سے والد كے كاروبار سے خريدے گئے اثاثہ جات ميں وراثت كا حكم


سوال

 والد کا کرائے کی دکان پر مکمل طور پر والد کے سرمائے سے شروع کیے گئے والد کے کاروبار کی وراثت کے متعلق پوچھنا ہے۔ میرے والد صاحب نے 1970 میں اپنے سرمائے سے بازار میں ایک کرائے کی دکان لے کر مٹھائی کا کاروبار شروع کیاکاروبار بڑھتا گیاپھر اپنے سرمائے سے ہی مٹھائی بنانے کے لیے ایک کارخانہ بھی کرائے پر لیا کاروبار اچھا چلتا رہا اور اس سے جائیداد اور اثاثے بھی بنے پھر میرے والد 1993 میں کاروباری طور پر مقروض ہو گئے اور سپورٹ کے لیے اپنے بڑے بیٹے کو اپنے ساتھ کاروبار میں بطور عامل شامل کیا۔  2004 میں والد صاحب وفات پا گئے،  اس وقت کوئی کاروباری قرضہ نہیں تھا جبکہ والد کے سرمائے سے شروع کیا گیا مٹھائی کا کاروبار اپنی جگہ موجود تھا اور مضبوط بھی ہو گیا تھا۔  ہم نے والد کا کاروبار اور وراثت کی کوئی چیز تقسیم نہیں کی جب کہ بڑے بھائی نے والد کا کاروبار خود سنبھالے رکھا اور اسی کاروبار سے ہماری سپورٹ کرتے رہے اور اسی کاروبار کی بچت سے وہ دکان بھی خرید لی اور وہ کارخانہ بھی اور یہ دونوں چیزیں  والد کی وفات کے بعد اسی کاروبار کی بچت سے بننے والے تمام اثاثے اور جائیداد اپنے نام کروا لی۔  ہم نے کہا کہ والد کے کاروبار میں ہم آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں جس پر بڑے بھائی نے کہا کہ دکانیں کرائے پر تھیں  اس لیے کاروبار کی کوئی وراثت نہیں بنتی۔

(نوٹ۔اس دکان پر کیے جانے والا کاروبار والد کے سرمائے سے شروع ہوا تھا) محنت میں نے کی اور میں آپ کی سپورٹ ہمدردی طور پر کرتا رہا ہوں۔

رحیم یار خان کے علمائے اکرام یہ کہتے ہیں کہ کرائے کی دکانوں میں کیے جانے والے کاروبار کی وراثت نہیں ہوتی جب کہ ہم نے نومبر 2015 میں ایک معروف دینی ادارے کے ایک سیمینار میں علمائے  کرام کی گفتگو سنی جس میں انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ والد کے سرمائے سے شروع کیے گئے والد کے کاروبار میں سب ورثاء کا حصہ ہوتا ہے۔علمائے کرام سمجھتے ہیں کہ شاید ہم دکان کی وراثت مانگ رہے ہیں۔  ہم جانتے ہیں کہ دکان کرائے کی ہے جس کی ملکیت نہیں ہوتی جب کہ ہمارا مسئلہ دکان کا نہیں بلکہ اس دکان پر کیے جانے والے کاروبار کاہے جو کہ مکمل طور پر میرے والد کے سرمائے سے شروع ہوا تھا اور ان کی وفات تک اس کاروبار میں کوئی شراکت دار بھی نہیں تھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے والد کے کاروبار میں بھی ہم سب بہن بھائی برابر کے شریک ہیں یا نہیں؟ اگر والد کے کاروبار میں ہمارا بھی حصہ ہے تو آج اس کاروبار کی تقسیم کیسے ہوگی وضاحت فرما دیں۔ کیا کاروبار کے ساتھ ساتھ والد کے سرمائے سے شروع کیے گئے اس کاروبار کے نفع سے اب تک بننے والے تمام اثاثوں اور جائیداد میں بھی سب ورثاء کا حصہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح ہو کہ والد کے کاروبار میں اگر کوئی بیٹا عامل یا معاون کے طور پر کام کرے تو والد کی وفات کے بعد وہ عامل یا معاون بیٹا اس کاروبار کا مالک نہیں بنتا، والد کے کاروبار میں اس کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصے کے بقدر شریک ہوتے ہیں۔

صورت مسئولہ میں جو کاروبار آپ کے والد کا تھا اور آپ کے بھائی اس میں بطورِ عامل کام کر رہے تھے، والد کی وفات کے بعد ان کے تمام ورثاء اس میں اپنے شرعی حصوں کے بقدر شریک تھے۔ پھر اس کاروبار سے جتنے منافع حاصل ہوئے اور جو جائیدادیں اور اثاثہ جات بنے (جن میں خریدی گئی دوکان اور کار خانہ بھی شامل ہے)، ان سب میں تمام ورثاء شریک ہیں،وارثوں کی تفصیل لکھ کر دارالافتاء سے دوبارہ رجوع کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

" وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ وقدمنا أن هذا ليس شركة مفاوضة ما لم يصرحا بلفظها أو بمقتضياتها مع استيفاء شروطها، ثم هذا في غير الابن مع أبيه؛ لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب."

(كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة، ج4، ص325، سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408100504

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں